رسائی کے لنکس

logo-print

جرمنی کے بارز میں فائرنگ، حملہ آور کا نشانہ تارکین وطن تھے


جرمنی کے شہر 'ہنو' کے دو شیشہ بارز میں ایک نامعلوم شخص کی فائرنگ سے کم از کم نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

جرمنی کے جنوب مغربی شہر ہنو کے دو شیشہ بارز میں ایک نامعلوم شخص کی فائرنگ سے کم از کم نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد ترک تارکین وطن تھے ۔

حکام کے مطابق،حملہ آور کی عمر تینتالیس سال تھی، وہ جرمن شہریت کا ھامل تھا۔ ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق اس نے حملے سے پہلے سوشل میڈیا پر 'اپنے درمیان موجود مختلف نسلی اقلیتوں اور ثقافتوں کی مکمل نسل کشی' کی بات پوسٹ کی تھی۔

فائرنگ کے واقعات رات 10 بجے کے لگ بھگ پیش آئے۔ فائرنگ کے وقت دونوں شیشہ بارز میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

فائرنگ سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ کم از کم پانچ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ایک عینی شاہد متین خان کا کہنا تھا کہ 'حملے کے مقام پر ایک حقہ بار ، ایک گیمنگ پارلر اور ایک کباب ریسٹورنٹ تھا، ایسی جگہ پر زیادہ تر تارکین وطن آتے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا ، غیر ملکیوں سے اتنی نفرت کی وجہ کیا ہے، ہم سب تو یہاں مل جل کر رہتے ہیں'.

حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے کئی گھنٹے بعد انہیں مشتبہ حملہ آور کی لاش بھی اس کے گھر سے مل گئی ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ اس نے خود کشی کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات ڈومیسٹک ٹیررازم یعنی اندرونی دہشت گردی کے طور پر کی جا رہی ہیں۔

حکام کو مشتبہ حملہ آور کے گھر سے ایک اور لاش بھی ملی ہے جس کی شناخت حملہ آور کی والدہ کے طور پر کی گئی ہے۔

جمعرات کو وائس آف امریکہ کی کرد سروس نے جرمنی کے شہر ہنو کے قریب واقع گاؤں میں مقیم ایک کرد، فرگین ملک کو انٹرویو کیا، جو تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

فرگین ملک نے کہا کہ ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں میں سے ایک کرد ہیں، جن میں سے ایک کا تعلق ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع صالحین نامی گاؤں سے تھا، جب کہ دوسرا نوجوان بھی ترکی کے صوبہ اگیری کا رہنے والا تھا۔

بقول ان کے، ’’میں دونوں کے اہل خانہ کو بھی جانتا ہوں؛ جب کہ زخمی ہونے والوں میں بھی چند کرد شامل ہیں‘‘۔

جرمن چانسلر انگلا مرکل نے کہا ہے کہ 'اس واقعے سے جرمنی میں نسل پرستی کے زہر کی عکاسی ہوتی ہے'۔ انہوں نے جرمنی کو تقسیم کرنے کے خواہشمند عناصر کے خلاف کھڑے ہونے کے عزم کا اطہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'حملہ آور انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند نظریات سے متاثر تھا اور اس کے عزائم نسل پرستانہ تھے'۔

ہنو کی آبادی لگ بھگ ایک لاکھ ہے اور یہ جرمنی کی معاشی سرگرمیوں کے مرکز فرینکفرٹ سے 20 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔

شہری انتظامیہ نے فائرنگ کے واقعات کو شہر کی تاریخ کا بد ترین واقعہ قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG