رسائی کے لنکس

logo-print

علی وزیر اور محسن داوڑ کے معاملے پر ابہام کیوں؟


علی وزیر اور محسن داوڑ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

سوال یہ ہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے معاملے پر حکومتی حلقوں میں اتنا ابہام اور تشویش کیوں ہے؟

وفاقی کابینہ نے وزارتِ داخلہ کو قبائلی اضلاع شمالی اور جنوبی وزیرستان سے منتخب ہونے والے ارکانِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کا نام 'ایگزٹ کنٹرول لسٹ' (ای سی ایل) سے نکالنے کی ہدایت کی ہے۔

پہلے وفاقی کابینہ ہی کی سفارش پر ان دونوں رہنماؤں کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا اور اب کابینہ ہی کی ہدایت پر ان کا نام فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

'ای سی ایل' سے نام نکالے جانے کے بعد دونوں ارکانِ قومی اسمبلی اب بغیر کسی روک ٹوک کے بیرونِ ملک سفر کر سکتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے معاملے پر حکومتی حلقوں میں اتنا ابہام اور تشویش کیوں ہے؟

قبائلیوں کے حقوق کی آواز اٹھانا

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد وہاں سکیورٹی اب بھی فوج کے ہاتھ میں ہے۔ شمالی وزیرستان میں جگہ جگہ قائم چوکیوں پر آنے جانے والوں کی تلاشی لی جاتی ہے جس کے دوران قبائلی عوام کے بقول انھیں فوجی اہلکاروں کے نا مناسب رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مقامی افراد کا موقف ہے کہ آئے دن کرفیو اور چھاپوں کے دوران بھی سکیورٹی فورسز کا رویہ مقامی افراد کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا۔ لیکن سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے بعد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ تمام اقدامات نا گزیر ہیں۔

قبائلی علاقوں کے عوام کے حقوق کے لیے سب سے پہلے 'پشتون تحفظ تحریک' نے آواز اٹھائی۔ 'پی ٹی ایم' کے بانی منظور پشتین کے مطابق اُن کی جدوجہد پاکستان کے آئین میں دیے گئے حقوق کے لیے ہے اور وہ تشدد کے بجائے امن کا راستہ اپناتے ہوئے اپنا مطالبات سامنے لانا چاہتے ہیں۔

پشتون تحفظ تحریک سے وابستگی

علی وزیر اور محسن داوڑ پشتون تحفظ تحریک کے سرکردہ رکن ہیں اور جولائی 2018ء میں عام انتخابات لڑنے سے پہلے تک وہ پی ٹی ایم کی کور کمیٹی کے رکن تھے۔

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد 25 جولائی کو ہونے عام انتخابات میں محسن داوڑ اور علی وزیر بالترتیب شمالی اور جنوبی وزیرستان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

گو کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بانی منظور پشتین انتخابی سیاست میں حصہ لینے کے خلاف تھے اور الیکشن لڑنے کے سبب انھوں نے علی وزیر او محسن داوڑ کو کور کمیٹی سے نکال دیا تھا، لیکن دونوں رہنما اب بھی پی ٹی ایم کا حصہ ہیں۔

یہی وابستگی دونوں کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ چند ماہ قبل ڈیرہ اسماعیل خان اور صوابی میں پی ٹی ایم کے جلسوں میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ علی وزیر اور محسن داوڑ بھی موجود تھے۔

دونوں کے خلاف خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں کے علاوہ کراچی اور لاہور میں بھی مقدمات درج ہیں جن میں اُن پر نفرت انگیز تقاریر کرنے، لوگوں کو اکسانے اور ریاست مخالف پراپیگنڈہ کرنے کے الزامات ہیں۔ دونوں نے اپنے خلاف درج مقدمات میں عدالتوں سے ضمانت لے رکھی ہے۔

ای سی ایل میں نام کیوں ڈالا اور نکالا گیا؟

جمعرات کو وفاقی کابینہ نے دونوں اراکانِ اسمبلی کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی ہدایت کی۔

اس بارے میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ دونوں اراکانِ اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر درج تھی اور اسی لیے اُن کا نام ای سی ایل میں تھا۔ لیکن اب ضمانت کرانے کے بعد اُن کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان سمیت اور بھی کئی اراکانِ قومی اسمبلی کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں۔ لیکن اُن کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ہے؟

گزشتہ روز وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ محسن داوڑ کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ محسن داوڑ نے ریاستی اداروں کو چیلنج کیا ہے جس پر ریاست کو سامنے آنا پڑا۔ لیکن وزیرِ مملکت برائے داخلہ اور وزیرِ اطلاعات کے یہ بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

ادھر محسن داوڑ کے مطابق صوابی میں جلسہ کرنا اُن کا آئینی حق تھا اور انھوں نے اپنا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر قومی اسمبلی میں تحریکِ استحقاق بھی جمع کرائی ہے۔

پشتون تحفظ تحریک سے خائف کیوں؟

پاکستان کے بعض ریاستی اداروں کا الزام ہے کہ پی ٹی ایم کسی غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ جب کہ پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ جائز حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

یہی وہ متضاد موقف ہے جس کے سبب پی ٹی ایم کے بارے میں بات کرنے والے ارکانِ اسمبلی، صحافیوں اور سیاست دانوں کو بھی شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں جاری مبینہ سیلف سنسرشپ کے اس دور میں مقامی ذرائع ابلاغ میں بھی پشتون تحفظ تحریک کا مکمل بلیک آؤٹ ہے اور تحریک کی سرگرمیوں کو بالکل کوریج نہیں دی جارہی۔

حال ہی میں پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم کو تنبیہ کی تھی کہ وہ اُس حد کو عبور نہ کریں جس کے بعد ریاست کو طاقت کا استعمال کر کے اپنی بالادستی برقرار رکھنا پڑے۔

فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کے کئی مطالبات پر اقدامات ہو رہے ہیں اور اس تحریک کے پرتشدد نہ ہونے کے سبب اب تک اس کے ساتھ نرمی برتی گئی ہے۔

پی ٹی ایم نے اب تک سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز اٹھائی ہے۔ ایسے وقت میں جب مقامی ذرائع ابلاغ خاموش ہیں، سوشل میڈیا پر پشتون تحفظ تحریک کی آواز خوب سنائی دیتی ہے۔

لیکن پی ٹی ایم کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو بھی خاموش کرایا جا رہا ہے۔ پی ٹی ایم کی مبینہ حمایت پر سابق سینیٹر افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کو ان کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اظہارِ وجوہ نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔

پاکستان کے آئین کے تحت ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آئین آزادیٔ اظہارِ رائے سمیت شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا بھی ضامن ہے۔

لیکن مبصرین کے خیال میں کمزور جمہوریت میں بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا خود حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے باوجود بھی قبائلی عوام کو اپنے بنیادی آئینی حقوق کے لیے مزید انتظار کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG