رسائی کے لنکس

logo-print

محسن داوڑ اور علی وزیر کے نام باضابطہ طور پر اِی سی ایل میں شامل


پاکستان کی وفاقی حکومت نے وزیرستان سے منتخب ہونے والے رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کا نام باضابطہ طور پر ’ایگزیٹ کنٹرول لسٹ‘ میں ڈال دیا ہے۔

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں وزارت داخلہ کے سپیشل سیکریٹری ڈاکٹر عامر نے اراکین کو بتایا کہ کابینہ نے محسن داوڑ اور علی وزیر کے نام اِی سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے اراکین کو بتایا کہ آئی جی پولیس خیبر پختونخوا کی درخواست پر دونوں کا نام پہلے ہی ایک عبوری لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔ لیکن، اب دونوں کے نام باقاعدہ طور پر اِی سی ایل میں آ گیا ہے۔

کیمٹی میں موجود وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے اراکین کو بتایا کہ دونوں ارکان قومی اسمبلی کے نام پہلے اِی سی ایل میں نہیں تھا۔ تاہم، جب نفرت انگیز تقریر کے بعد ان پر مقدمہ درج ہوا اس کے بعد ایسا کیا گیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ریاستی اداروں کو چیلنج کیا جائیگا تو پھر حکومت کو اقدامات اُٹھانا پڑتے ہیں۔

’ایسے فیصلے مارشل لا میں بھی نہیں ہوتے‘

وفاقی کابینہ کے اس فیصلے پر علی وزیر نے ’وائس آف امریکہ‘ کو اپنا ردعمل بیان کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بارے میں باقاعدہ طور پر تحریک استحقاق اور تحریک التوا جمع کروائی ہیں اور قومی اسمبلی میں بھی اس معاملے کو زیر بحث لایا جائے گا۔

علی وزیر نے فوج کا نام لئے بغیر کہا کہ ’’اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اداروں کے سامنے بے بس ہے‘‘۔

اُنہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر وہ حزب اختلاف میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے رابطے کر رہے ہیں۔

محسن داوڑ نے اپنی ٹویٹ میں وفاقی کابینہ کے اس فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’اس قسم کے فیصلے مارشل لا میں نہیں ہوئے ہیں‘‘۔

ان کے بقول، ’’یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے وجوہات کا علم وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ کو بھی نہیں ہے۔‘‘

ارکان قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ پختون تحفظ تحریک کے اہم رہنما ہیں۔

گذشتہ ماہ نومبر میں محسن داوڑ اور علی وزیر کو اِی سی ایل میں نام ہونے کی بنا پر پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر روک دیا گیا تھا۔ وہ متحدہ عرب امارات جا رہے تھے۔ تاہم، بعد میں حکومت کے اس فیصلے کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔

صوابی میں جلسے کرنے پر علی وزیر سمیت پختون تحفظ تحریک کے متعدد سرکردہ رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھیں۔ اس مقدمے میں محسن داوڑ نے پہلے ہی سے عدالت سے ضمانت لے لی ہے۔

صوابی کے علاوہ محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت کے پی ٹی ایم کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں کے علاوہ کوئٹہ اور کراچی میں مقدمات درج کردیئے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں اُن کے خلاف ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو بھڑکانے اور غلط الزامات لگوانے پر مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG