رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: دہلی حکومت کے اختیارات میں کمی کا 'متنازع' قانون منظور


بھارت کی لوک سبھا نے حال ہی میں دہلی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔

بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کردہ اُس متنازع بل پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت دہلی کی منتخب حکومت کے اختیارات کم اور لیفٹننٹ گورنر کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دستخط کے ساتھ ہی یہ بل قانون بن گیا۔

اس قانون کے مطابق دہلی کی کیجری وال حکومت اب کوئی بھی انتظامی فیصلہ نہیں کر سکے گی۔ اس کے ہر فیصلے کی لیفٹننٹ گورنر منظوری دیں گے۔

مذکورہ بل گزشتہ دنوں پہلے لوک سبھا نے منظور کیا اور پھر راجیہ سبھا نے بھی اس کی منظوری دے دی۔ حزبِ اختلاف نے اس بل پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ کیا لیکن راجیہ سبھا میں اس کے واک آوٹ کے درمیان اس بل کو منظور کر لیا گیا۔

نیا قانون کیا ہے؟

اس قانون میں کہا گیا ہے کہ دہلی حکومت کا مطلب لیفٹننٹ گورنر یا ایل جی ہو گا۔ حکومت کی جانب سے کوئی بھی انتظامی فیصلہ کرنے کے لیے لیفٹننٹ گورنر کی منظوری ضروری ہو گی۔

یاد رہے کہ دہلی کو دوسری ریاستوں کی مانند مکمل ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ اس کے اختیارات کم ہیں جب کہ یہاں کے لیفٹننٹ گورنر کے اختیارات بھی کم تھے تاہم نئے قانون کے بعد ان میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل دہلی حکومت کو تین شعبوں پولیس، امن و امان اور زمین کو چھوڑ کر تمام شعبوں کے لیے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ ان تینوں شعبوں کے علاوہ کسی بھی شعبے کے سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے میں لیفٹننٹ گورنر کی رضا مندی ضروری نہیں تھی۔ لیکن اب ان کی منظوری ضروری ہو گئی ہے۔

دہلی کے لال قلعے پر چڑھائی کا ذمہ دار کون؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:38 0:00

دہلی کے لیفٹننٹ گورنر بھی دیگر ریاستوں کے گورنرز اور لیفٹننٹ گورنرز کی مانند مرکزی حکومت کا مقرر کرہ اور ریاست میں اس کا نمائندہ ہوتا ہے۔

دہلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ بی جے پی الیکشن میں ہارنے کے باوجود لیفٹننٹ گورنر کے توسط سے دہلی پر حکومت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ دو اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو نئی دہلی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دہلی کی 70 رکنی اسمبلی میں 2015 میں عام آدمی پارٹی کو 67 اور بی جے پی کو محض تین حلقوں میں کامیابی ملی تھی۔ 2020 کے الیکشن میں عام آدمی پارٹی کو 65 اور بی جے پی کو پانچ حلقوں میں کامیابی ملی۔

سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل اور معروف قانون دان زیڈ کے فیضان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہلی مکمل ریاست نہیں ہے۔ اس کے اختیارات محدود ہیں اور مرکزی حکومت کو اس سلسلے میں قانون بنانے کا حق ہے۔

لیکن ان کے مطابق مرکزی حکومت پارلیمنٹ اور اپنی اکثریت کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نئی دہلی حکومت کے اختیارات کم کرنا چاہتی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نئی دہلی حکومت کے اختیارات کم کرنا چاہتی ہے۔

ان کے بقول شاید بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ اس کے اس اقدام سے دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت کمزور ہو گی اور جب وہ کوئی عوامی فیصلہ کر ہی نہیں پائے گی تو عوام میں اس کی ساکھ خراب ہو جائے گی۔ لیکن اگر بی جے پی ایسا سوچتی ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ یہ لڑائی اب سڑکوں پر لڑی جائے گی اور الیکشن میں بی جے پی کو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

'حکومت ارکانِ اسمبلی کو خریدنا چاہتی تھی'

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے اس بل کے خلاف دہلی میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو خریدنا چاہتی تھی لیکن جب وہ نہیں بکے تو اب وہ قانون بنا کر دہلی کی منتخب اور عوامی حکومت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون دہلی کے عوام کے ساتھ مذاق ہے۔

بی جے پی نے ارکانِ اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کے الزام کی تردید کی ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مودی حکومت منفی سیاست کر رہی ہے۔ وہ کیجری وال حکومت کی مقبولیت سے خائف ہے۔ اسی لیے اس نے ایسا قانون بنایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم اس کا سیاسی طور پر بھی جواب دیں گے اور قانونی طور پر بھی۔ قانونی و آئینی ماہرین سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ ہم لوگ جلد ہی اگلا قدم اٹھائیں گے۔

سپریم کورٹ کے ایک اور سینئر وکیل اور سینئر کانگریس رہنما ابھیشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں اب تک جتنے بھی بل پیش کیے گئے ہیں مذکورہ بل اب تک کا سب سے مہلک اور غیر آئینی بل ہے۔

نریندر مودی
نریندر مودی

ان کے مطابق آئین میں کہا گیا ہے کہ دہلی کو ایک مکمل ریاست کا درجہ ملنا چاہیے اور وہ انتظامات جو دوسری ریاستوں پر نافذ ہوتے ہیں اس پر بھی نافذ ہوں گے۔ البتہ زمین، پولیس اور لا اینڈ آرڈر اس سے مستثنیٰ ہیں۔

کیجری وال حکومت اور دہلی کے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل کے درمیان اختیارات کے سلسلے میں ٹکراؤ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔

کیجری وال کے پہلے دورِ حکومت میں بھی لیفٹننٹ گورنر نے کئی حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد روک دیا تھا جس پر نئی دہلی حکومت نے عدالت سے رُجوع کیا تھا۔

اس پر سماعت کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے اپنے فیصلے میں دونوں کے اختیارات کی وضاحت کر دی تھی اور کہا تھا کہ دہلی حکومت کے اختیارات زیادہ ہیں لیفٹننٹ گورنر کے کم، لہذٰا حکومت کو اپنے فیصلوں کے لیے اُن کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔

اس معاملے میں ابھیشیک منو سنگھوی بھی ایک وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے تھے۔ سنگھوی کا کہنا ہے کہ مذکورہ بل نہ صرف یہ کہ آئین کی دفعہ 239 اے اے کے منافی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور وفاقی روح کے بھی خلاف ہے۔

بی جے پی کا خیر مقدم

بی جے پی نے اس قانون کا خیر مقدم کیا ہے۔ نائب وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی تشویش کو دور کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا مقصد دہلی میں حکومتی نظام کو مضبوط کرنا ہے۔

اُن کے بقول حکومت اور لیفٹننٹ گورنر کے اختیارات کی تشریح کر دی گئی ہے تاکہ آئندہ ٹکراؤ نہ ہو۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت کیجری وال حکومت کو کام نہیں کرنے دینا چاہتی۔ اسی لیے یہ قانون بنایا گیا ہے۔

بعض دوسرے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال کے لیے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال بھی ذمے دار ہیں جنہوں نے پہلے دورِ حکومت میں مرکز سے ٹکراؤ کو اپنی عادت بنا لیا تھا۔

ایک سینئر تجزیہ کار اے یو آصف کا کہنا ہے کہ جب کیجری وال سیاست میں آئے تھے تو انہوں نے ایک الگ قسم کی سیاست کی بات کی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ بھی روایتی سیاست دانوں کے نقش قدم پر چلنے لگے۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ جب مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کا خاتمہ کیا اور ایک مکمل ریاست کو مرکز کے زیرِ انتظام دو خطوں میں تقسیم کیا تو کیجری وال نے اس کا خیرمقدم کیا تھا۔ آج خود ان کے خلاف حکومت نے اس نوعیت کی کارروائی کی ہے۔

بعض دیگر تجزیہ کار متنازع شہری بل مخالف شاہین باغ کے دھرنے اور دہلی میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے کیجری وال کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں معاملات میں کیجری وال نے وہی پالیسی اپنائی تھی جو بی جے پی کی ہے۔

مذکورہ بل پر کیجری وال کے اعتراض کے بعد بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے متعدد رہائشیوں نے ٹوئٹر پر اپنے رد عمل میں کیجری وال کو یاد دلایا کہ انہوں نے اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے، انٹرنیٹ پر پابندی، تین وزرائے اعلیٰ سمیت 8000 افراد کی گرفتاری اور عسکری محاصرے پر کیا بیان دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG