رسائی کے لنکس

logo-print

سی پیک اتھارٹی کی 'خود مختاری' کے لیے قانون سازی کی تجاویز


(فائل فوٹو)

پاکستان کی حکومت نے چین کے ساتھ اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کے نگران ادارے 'سی پیک اتھارٹی' کو مزید اختیارات دینے کے لیے قانون سازی تجویز کی ہے۔

ترمیمی مسودے کے مطابق سی پیک اتھارٹی کو انتظامی اور مالی خود مختاری کے علاوہ کوتاہی کے مرتکب سرکاری عہدے داروں کے خلاف قانونی کارروائی کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

وزارتِ منصوبہ بندی سے سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد کے ادارے کے طور پر کردار واپس لیتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کو راہداری منصوبوں کے حوالے سے مکمل خود مختار ادارے کا درجہ دیا جائے گا۔

سی پیک اتھارٹی کے اختیارات میں اضافہ اور خود مختار ادارے کا درجہ دینے کی قانون سازی کی ترمیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سی پیک منصوبوں میں سست روی پر تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز پر وزیر اعظم عمران خان نے اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا اور ہدایت کی کہ اس ادارے کی استطاعت کو مزید موثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سابق ترجمان لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور وزیر اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات بھی ہیں۔

سی پیک پاکستان کی اقتصادی ترقی کا ذریعہ بنے گا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:56 0:00

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے تصدیق کی ہے کہ سی پیک اتھارٹی کے اختیارات کے حوالے سے ترامیم پر غور ہو رہا ہے۔

پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کے قیام کو چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور اب تک کے تجربے کی بنیاد پر کچھ تجاویز سامنے آئی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ مسودہ مشاورت کے مرحلے میں ہے اور یہ ضروری نہیں کے تمام تجاویز پر قانون سازی ہو۔

صدارتی آرڈنینس کے ذریعے قائم کی گئی اس اتھارٹی کا مقصد سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ (فائل فوٹو)
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ (فائل فوٹو)

اس سے قبل سی پیک اتھارٹی راہداری منصوبوں سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں صوبوں اور وزارتوں کے درمیان رابطہ کاری کا کام کرتی تھی۔

خیال رہے کہ 2014 میں پاکستان اور چین کے درمیان 46 ارب ڈالر کے منصوبوں کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے جن میں زیادہ تر توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے سی پیک کے منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔ لہذٰا سی پیک اتھارٹی کے اختیارات میں اضافے کا مقصد چینی قیادت کو یقین دلانا ہے کہ پاکستان کی حکومت اقتصادی راہداری منصوبے بروقت مکمل کرنے میں سنجیدہ ہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کے چیئرمین شیر علی ارباب کہتے ہیں کہ سی پیک اتھارٹی کے اختیارات کے حوالے سے کوئی بات بھی ابھی حتمی طور پر طے نہیں اور یہ سب تجاویز ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اس بل کے مسودے کو منگوایا ہے جسے کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔

اُن کے بقول بل کے مسودے کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس کی خوبیوں اور خامیوں پر تبصرہ کیا جاسکے گا۔

سینیٹ میں سی پیک کمیٹی کی رکن اور اپوزیشن جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما ستارہ ایاز کہتی ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں سی پیک کو کامیاب دیکھنا چاہتی ہیں۔ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے حکومت اگر کوئی قانون سازی چاہتی ہے تو سب کو اعتماد میں لیا جائے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کوئی غلط کام نہیں کر رہی تو اسے عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ بصورتِ دیگر اس پر ایوان اور عوامی سطح پر آواز بھی اٹھے گی اور اعتراضات بھی ہوں گے۔

صحافی و تجزیہ کار فرحان بخاری کہتے ہیں کہ چین کو شکایت ہے کہ سی پیک منصوبے سست روی کا شکار ہیں جب کہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات بڑھ رہے ہیں جسے دور کرنے کے لیے نگران ادارے کے اختیارات میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں ہے بلکہ حکومتی سطح پر کچھ عرصہ سے راہداری منصوبوں میں حائل بعض رکاوٹیں دور کرنے پر غور کیا جا رہا تھا۔

فرحان بخاری نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان رواں سال متوقع ہے۔ لہذٰا حکومت چاہتی ہے کہ اُن کی آمد سے قبل سی پیک سے متعلق چین کے تحفظات دُور کر دیے جائیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے عمل میں لائی گئی اس اتھارٹی کے قیام پر اپوزیشن جماعتوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ قومی سطح کے فیصلوں کے لیے پارلیمان میں بحث کے بعد قانون سازی کی جانی چاہیے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کے چیئرمین شیر علی ارباب کہتے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ نے سی پیک اتھارٹی کے قیام پر تحفظات کا اظہار کیا تھا تاہم حساس معاملہ ہونے کے باعث اس پر زیادہ گفتگو نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت بھی سی پیک کے حوالے سے خاصی حساس ہے اور ذرائع ابلاغ میں راہداری کے حوالے سے منفی بات چیت شائع ہونے سے انہیں بھی تشویش ہوتی ہے۔

سینیٹر ستارہ ایاز کہتی ہیں کہ سی پیک اتھارٹی کے حوالے سے اراکین پارلیمنٹ کو پہلے سے تحفظات ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کے سوالات اور منصوبوں کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام کو حکومت نے دور نہیں کیا ہے۔

صحافی فرحان بخاری کہتے کہ سی پیک علاقائی صورتِ حال اور پاکستان کی معیشت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور سی پیک اتھارٹی کے لامحدود اختیارات پر پارلیمنٹ میں سوالات اٹھائے جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے پہلے بھی اٹھائے جاتے رہے تاہم حکومت انہیں نظر انداز کر کے صدارتی آرڈیننس لاتی رہی ہے۔

شیر علی ارباب کہتے ہیں کہ یہ تمام پہلو اپنی جگہ تاہم سی پیک کی پارلیمانی نگرانی کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں برائے منصوبہ بندی کے علاوہ پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک اور سینیٹ خصوصی کمیٹی برائے سی پیک تشکیل دی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG