رسائی کے لنکس

زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھنے سے خود انحصاری میں اضافہ متوقع: اسٹیٹ بینک


رضا باقر کی زیر صدارت اجلاس (فائل)

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ ملک میں ادارہ جاتی اصطلاحات کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ مرکزی بینک کے گورنر کا کہنا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے بیرونی ذرائع پر معاشی انحصار پر کمی اور ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب بھی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ذخائر کے بڑھنے سے ہماری خود انحصاری میں اضافہ ہوا ہے‘‘؛ اور اس تاثر کو رد کیا کہ یہ اضافہ غیر حقیقی اور حکومت کی جانب سے بیرونی قرضوں کے حصول کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

درآمد کنندگان کو ایڈوانس ادائیگیوں کی اجازت

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے بتایا کہ زرمبادلہ کےذخائر میں استحکام آنے کے بعد حکومت نے درآمدات کرنے والوں کو 10 ہزار امریکی ڈالر کی ایڈوانس ادائیگی کی اجازت دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ درآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے، مرحلہ وار آسانیاں لائی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل، ان درآمد کنندگان کو ایڈوانس ادائیگیوں سے جولائی 2018 میں روک دیا گیا تھا، جس کا مقصد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام دینا بتایا گیا تھا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، حکومت نے یہ اقدام کاروبار میں آسانیاں لانے کے لئے کیا ہے۔ اور اس سے تاجروں کو سہولت ملے گی جبکہ معیشت کی رفتار میں بھی تیزی دیکھنے میں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ درآمدات کے لئے ایڈوانس ادائیگی کی اجازت دینے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر معتدل اثر پڑے گا، جو کہ ملکی معیشت کے لئے اب قابل برداشت ہے۔

برآمد کنندگان کو سستے قرضوں کی فراہمی کی اسکیم

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسی میں برآمدات میں اضافہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور برآمدات کو بڑھا کر ہی معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ جبکہ غربت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے ایکسپورٹرز کو مدد فراہم کرنے اور ملکی مصنوعات کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لئے اسکیم متعارف کی ہے جس کے تحت برآمد کنندگان کو قلیل اور طویل مدتی سستے قرضے دیے جائیں گے۔ قلیل مدتی قرض پر 3 فیصد اور طویل مدتی قرض 5 سے 6 فیصد مارک اپ رکھا گیا ہے۔

"اصلاحات کے مثبت نتائج آرہے ہیں،" گورنر اسٹیٹ بینک کا دعویٰ

مرکزی بینک کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سےاسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں میں لائی گئی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہونے کے ساتھ شرح تبادلہ میں بھی استحکام آیا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ اضافہ حقیقی ہے۔ اس کا تعلق حکومت کی جانب سے قرضے حاصل کرنا نہیں۔ ملکی درآمدات میں کمی جبکہ برآمدات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذمے واجبات میں بھی کمی آئی ہے۔

گورنر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے دیے گئے پروگرام سے حکومت کو بعض سخت فیصلے کرنا پڑے، سخت قدم اٹھانے کی وجوہات مسائل کا انبار تھا۔ لیکن، ان کے مطابق، مستقبل میں ان سخت فیصلوں کے پھل بھی ملیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی بڑھنے کی کئی وجوہات میں سے ایک ماضی کا معاشی عدم توازن تھا، جو مستقبل میں مزید کم ہو گا۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، اس وقت بھی معیشت میں سکڑاؤ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ لیکن، یہ ضرور ہے کہ ملکی مجموعی پیدوار میں ترقی کی رفتار میں کمی ضرور آئی ہے۔تاہم، جوں جوں مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور لوگوں کا اعتماد بڑھتا جائے گا، تو ملکی معیشت کی ترقی کی رفتار میں بھی تیزی دیکھنے میں آئے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک مستقبل قریب میں بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں اضافے کے بارے میں بھی پراعتماد نظر آئے۔ ان کے خیال میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار ادارہ جاتی اصلاحات سے متاثر ہو کر ملک میں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق، تین ماہ پہلے کے معاشی حالات سے آج کے حالات قدرے بہتر ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں گورنر اسٹیٹ بینک نے تسلیم کیا کہ گذشتہ سال مرکزی بینک کو تاریخی بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ انہوں نے شرح تبادلہ میں ہونے والی تبدیلی بیان کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG