رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت اور احتجاجی سرکاری ملازمین میں تنخواہوں کے عبوری اضافے پر اتفاق، دھرنا بھی جاری


فائل فوٹو

پاکستان میں حکومت اور احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے درمیان تنخواہوں میں عبوری اضافے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ البتہ مظاہرین بدستور دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری نوٹیفکیشن کے اجرا تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

اس سے قبل پولیس نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا تھا جس کے بعد مذاکرات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

سرکاری ملازمین کی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے اعلان کیا کہ گریڈ ایک سے 19 تک کے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فی صد کے عارضی اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہوں میں عارضی اضافے کا نوٹیفکیشن وزارتِ خزانہ جاری کرے گی جس کا اطلاق آئندہ بجٹ تک ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مستقل اضافے اور اپ گریڈیشن کا فیصلہ پے کمیشن جلد کرے گا۔

سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے گزشتہ ماہ کے دوران بھی اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جس کے نتیجے میں وزیرِ اعظم عمران خان نے مذاکرات کے لیے وفاقی وزرا پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی تھی۔

وزیرِ دفاع پرویز خٹک، وزیرِ داخلہ شیخ رشید اور وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان حکومت مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔

سرکاری ملازمین کے گرینڈ الائنس کے سربراہ رحمن باجوہ نے حکومت کے ساتھ تنخواہوں میں اضافے پر اتفاق رائے کی تصدیق کی۔

سرکاری ملازمین کے درمیان بات چیت کے بعد حکومت نے تنخواہوں میں اضافے کی سمری کابینہ اراکین کو ارسال کر دی گئی ہے۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے بتایا کہ تنخواہوں میں اضافے کی منظوری وزیر اعظم نے دے دی ہے۔

وسری جانب وفاقی وزراء کے مطالبات کی منظوری کے اعلان کے باوجود سرکاری ملازمین نے نوٹیفکیشن کے اجرا تک احتجاج ختم نہ کرنے فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا پریس کلب کے سامنے نوٹیفیکیشن کے ساتھ اعلان کریں گے تب ہی احتجاج ختم ہو گا۔

سرکاری ملازمین کی یونین رہنما رخسانہ انور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وفاقی وزرا کو تنخواہوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے ساتھ مظاہرین سے خطاب کرنا چاہیے اور گزشتہ روز کے تشدد پر معذرت کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوٹیفکیشن کے اجرا تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا اور اگر آج رات تک نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو جمعے سے احتجاج میں مزید شدت آئے گی۔

مہنگائی سے پاکستانی مائیں پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:58 0:00

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے احتجاج اور قلم چھوڑ ہڑتال کے باعث حکومتی امور معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔

بدھ کو شروع ہونے والا احتجاج پولیس کی لاٹھی چارج اور شیلنگ کے بعد پر تشدد شکل اختیار کر گیا تھا۔ پولیس مظاہرین کو شاہراہِ دستور سے منتشر کرنے میں ناکام رہی تھی اور سرکاری ملازمین ڈی چوک پر احتجاجی دھرنا دے دیا تھا۔

پولیس کے ساتھ جھڑپ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے درجنوں ملازمین کو حراست میں لیا تھا جنہیں جمعرات کو رہا کر دیا گیا۔

سرکاری ملازمین کا یہ احتجاجی دھرنا بدھ کی رات بھی جاری رہا اور جمعرات کو دیگر صوبوں سے بھی سرکاری ملازمین اسلام آباد کے اس احتجاجی دھرنے میں شریک ہوئے۔

سرکاری ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور ملازمین کی تنخواہوں میں پائی جانے والی تفریق ختم کی جائے۔

احتجاج کی کال پاکستان میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی درجنوں لیبر یونینز اور دوسری تنظیموں کے اتحاد آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کی جانب سے دی گئی تھی۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے سرکاری ملازمین پر پولیس لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی مزمت کی ہے۔

بچے کی ولادت پر والد بھی تنخواہ سمیت چھٹی کا حقدار
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:24 0:00

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے بھی مظاہرین پر تشدد کی مذمت کی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ اگر سرکاری ملازمین سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بنے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اُنہوں نے کہا تھا کہ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں اس صورتِ حال سے ناجائز فائدہ اٹھنا چاہتی ہیں.

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG