رسائی کے لنکس

ہارورڈ یونیورسٹی میں موسم سرما کے داخلوں میں 20 فی صد کمی


ہارورڈ یونیوسٹی کی ایک طالبہ عابیہ خان، یونیورسٹی کے گاؤن میں، فائل فوٹو

امریکہ کی عالمی شہرت یافتہ ہارورڈ یونیورسٹی میں کرونا بحران کے باعث اس سال موسم سرما کے دوران طالب علموں کی تعداد میں 20 فی صد کمی متوقع ہے۔

کرونا وائرس کے پھوٹنے سے پیدا ہونے والے حالات نے ہارورڈ یونیورسٹی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یونیورسٹی کی خبروں کی ویب سائٹ دی ہارورڈ کرمسن کے مطابق طالب علموں کی تعداد میں اس کمی کی وجہ کروناوائرس کے پھیلاؤ سے جنم لینے والی متعدد وجوہات ہیں۔
بہت سے طلبا و طالبات پابندیوں کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتے یا وہ کیمپس آنا نہیں چاہتے، کیونکہ وہ وائرس سے بچنے کے لیے ہجوم میں جانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ یا پھر وہ آن لائن کلاسوں کو مؤخر کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس انداز تعلیم کو اپنے لیے مناسب نہیں سمجھتے۔

کرمسن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے 6755 انڈر گریجوایٹ طالب علموں کے مقابلے میں اس سال 5231 طالب علم موسم سرما کی کلاسوں میں داخلے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس سال داخلہ لینے والے طالب علموں میں سے 340 نے اپنی کلاسوں کو اگلے سال تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ جو کل تعداد کا 20 فی صد ہے۔

کرمسن کے مطابق ہر سال تقریاً 80 سے 110 طالب علم اپنے تعلیمی سلسلے میں ایک سال کا وقفہ کرتے ہیں۔

اس سال ہارورڈ یونیورسٹی نے اپنی تمام کلاسوں میں آن لائن تعلیم کا بندوبست کیا ہے۔ اب تک داخلہ لینے والے 5231 انڈر گریجوایٹ جو اس سال تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی اکثریت یعنی 3599 طالب علم آن لائن اور کیمپس سے دور رہ کر تعلیم حاصل کریں گے۔ جب کہ 1168 فریش مین یعنی سال اول کے طالب علم اور 464 اپر کلاس کے طالب علم اپنی تعلیم کے دوران کیمپس میں ہی رہیں گے۔ جو کل تعداد کا 25 فی صد ہے۔

علاوہ ازیں یونیورسٹی نے ایسے 1000 سے زیادہ طالب علموں کو کیمس میں کلاسز کے لیے بلا لیا ہے جنہیں تیز رفتار انٹرنیٹ، کمپیوٹر یا تعلیم کے لیے مناسب وقت یا جگہیں دستیاب نہیں تھیں یا پھر انہیں مخصوص خاندانی حالات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا اور یا انہیں خوراک اور رہنے کے مقامات پر عدم تحفظ کا سامنا تھا۔ ان میں وہ طالب علم بھی شامل تھے جنہیں نئے علوم سیکھنے کے لیے ٹیکنالوجی درکار تھی۔

یونیورسٹی سٹاف کے زیادہ تر ارکان اپنے گھروں سے تدریس کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG