رسائی کے لنکس

خیبرپختونخوا: تین روز میں غیرت کے نام پر دو خواتین سمیت چار افراد قتل


(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کے دو مختلف علاقوں میں گزشتہ تین روز کے دوران دو خواتین سمیت چار افراد کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مانسہرہ کی وادی کاغان کے گاؤں چرید میں نامعلوم افراد نے منگل کو جواں سال لڑکے اور لڑکی کو گھر کے اندر گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔ پولیس حکام نے اس واقعہ میں لڑکی کے ایک ماموں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پیر کو ایک اور واقعے میں ضلع ایبٹ آباد کے حویلیاں قصبے کے نواحی گاؤں میں ایک نوبیاہتا جوڑے کو بھی گھر کے اندر قتل کر دیا گیا تھا۔ مقتولین نے نو جولائی کو پسند کی شادی کی تھی جس پر لڑکی کے بھائی کو سخت رنج تھا اور اس نے موقع پاتے ہی بہن اور بہنوئی کو قتل کر دیا۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

ایبٹ آباد کے ایک سینئر صحافی راجہ ہارون کا کہنا ہے کہ عوام میں شعور نہ ہونے کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل اور تشدد کے دیگر واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں پسند کی شادی کی اجازت ہے لیکن یہاں پر اس کو گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے جس سے اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی زہرہ یوسف نے بتایا کہ پچھلے کئی برسوں سے غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ان کے بقول کئی واقعات میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کو چھپایا جاتا ہے۔

زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ ایک طرف پاکستانی معاشرے میں مردوں کو فوقیت حاصل ہونے کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تو دوسری طرف قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہ ہونے سے ملزمان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

ماضی میں بھی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بالخصوص ہزارہ ڈویژن کے مانسہرہ اور کوہستان کے اضلاع میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک میں ہر سال ایک ہزار کے لگ بھگ خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے جب کہ مردوں کی تعداد اس سے کہیں کم ہے۔

خیال رہے کہ 2012 میں کوہستان کے گاؤں 'غدر پلاس' ميں ايک شادی کی تقريب میں دو لڑکوں کے رقص جبکہ پانچ لڑکيوں کے تالياں بجانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

ویڈیو کا یہ معاملہ مقامی جرگے میں گیا۔ جہاں جرگے نے ان لڑکیوں کے قتل کا فیصلہ کیا بعد ازاں مبینہ طور پر ان لڑکیوں کو قتل کر دیا گيا۔

اس مقدمے کی پیروی کرنے والے افضل کوہستانی اور اُن کے تین بھائیوں کو بھی بعدازاں مختلف واقعات میں قتل کر دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG