رسائی کے لنکس

logo-print

دہلی فسادات کا الزام، انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد گرفتار


عمر خالد (فائل فوٹو)

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس نے رواں سال کے آغاز پر ہونے والے فسادات کے الزام میں انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کو گرفتار کر لیا ہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم کو فرقہ ورانہ تشدد کو بڑھاوا دینے سمیت دیگر الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف ہونے والے مطاہروں میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔

عمر خالد پر بغاوت، اقدامِ قتل سمیت 18 دفعات لگائی گئی ہیں، بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے عمر خالد کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ ان مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے متعدد طلبہ کو بھی حراست میں لیا تھا۔

عمر خالد کو اس تقریر کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے جو اُنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت آمد کے موقع پر کی تھی۔ عمر خالد نے کہا کہ تھا کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر سڑکوں پر آئیں گے اور اُنہیں بتائیں گے کہ بھارت کو توڑنے کی کوشش کرنے والے کون ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں، ماہرین تعلیم اور وکلا کے ایک گروپ نے ایک بیان جاری کرکے عمر خالد کو ملک کی آئینی اقدار کے حق میں بولنے والا ایک بہادر نوجوان قرار دیا ہے اور ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

عمر خالد پر الزام لگایا گیا ہے کہ اُنہوں نے نئی دہلی فسادات کو ہوا دینے کے لیے سازش کی۔ گرفتاری سے قبل بھی پولیس عمر خالد سے متعدد مواقع پر پوچھ گچھ کر چکی ہے۔ لیکن اتوار کی شب اُنہیں گرفتار کر لیا گیا۔

بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہروں میں املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہروں میں املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم 'یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ' نے جس سے عمر خالد وابستہ ہیں، ایک بیان میں کہا کہ پولیس فسادات کی تحقیقات کے نام پر شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ہراساں کر رہی ہے۔

پولیس نے اپنی ایک ضمنی فردِ جرم میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی ایم) کے رہنما سیتا رام یچوری، انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن اور سوراج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو کو بھی نامزد کیا ہے۔

اس کے علاوہ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپورو انند، معروف ماہر معاشیات جینتی گھوش، عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خاں، کانگریس کے سابق رکن اسمبلی چودھری متین احمد اور شاہین باغ کے مظاہرین کے وکیل محمود پراچہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن تپن بوس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہلی پولیس وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر کام کر رہی ہے۔ بی جے پی کے رہنماوں نے فساد کرانے کی دھمکی دی تھی اور فساد کرایا بھی مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق فسادات کے دوران مسلمان مارے گئے، ان کی املاک کا نقصان ہوا اور اب انہیں کو ہی ملزم بنایا جا رہا ہے۔

تپن بوس نے کہا کہ جس طرح 2002 کے گجرات فسادات کے دوران اصل مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی اسی طرح دہلی فسادات کے اصل مجرموں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق جمہوریت میں اظہارِ خیال کی آزادی ہوتی ہے اور حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اب اگر کوئی بولتا ہے تو اسے ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔

سیتا رام یچوری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاسی جماعتوں کے جائز اور پر امن احتجاج سے خوف زدہ ہے۔ اسی لیے وہ حزبِ اختلاف کو ہدف بنانے کے لیے اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

تاہم بھارت کی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ بھارتی حکام کا یہ موقف رہا ہے کہ نقصِ امن کا باعث بننے والے کسی بھی شخص کے خلاف سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کارروائی کی جاتی ہے۔

پولیس نے وضاحت کی ہے کہ ان لوگوں کے نام فرد جرم میں اس وجہ سے شامل کیے گئے ہیں کیوں کہ بعض ملزموں نے اپنے بیانات میں ان کے نام لیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG