رسائی کے لنکس

پشاور بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح، کیا اب شہریوں کے مسائل حل ہوں گے؟


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کا افتتاح کر کے اسے باقاعدہ طور پر عوام کے لیے کھول دیا ہے۔

صوبائی حکومت نے اس منصوبے کے مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اب بھی اس منصوبے میں کئی کام نامکمل یا زیرِ تعمیر ہیں۔ جن میں ڈبگری اور حیات آباد کے مقام پر کار پارکنگ اور کئی ایک اسٹیشنز وغیرہ سرِ فہرست ہے۔

لگ بھگ 29 کلو میٹر پر محیط اس منصوبے کا مرکزی کوریڈور چمکنی سے کارخانو کراسنگ تک ہے جس پر 30 اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے اکتوبر 2017 میں بی آر ٹی منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھتے وقت منصوبے کو 6 ماہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ البتہ بی آر ٹی کی تکمیل میں دو سال اور دس ماہ کا وقت لگا۔

منصوبے میں تاخیر پر نہ صرف پشاور بلکہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی سیاسی، کاروباری اور سماجی شخصیات حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

ابتدائی تخمینے کے مطابق یہ منصوبہ 49 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونا تھا مگر وزیر اعلیٰ محمود خان کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ 67 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا ہے۔

تاہم حزبِ اختلاف میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں اور پشاور کی کاروباری شخصیات کا دعویٰ ہے کہ منصوبے پر لاگت کسی بھی طور پر 100 ارب روپے سے کم نہیں ہے۔

اس منصوبے کے لیے ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک نے خیبر پختونخوا حکومت کو پانچ کروڑ ڈالرز سے زیادہ قرضہ بھی دیا ہے۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ اس منصوبے کے آغاز پر انہیں بعض تحفظات تھے لیکن اس وقت ہم غلط تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف پشاور میں ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئے گی بلکہ ہائبرڈ بسوں کے استعمال سے آلودگی میں بھی نمایاں کمی ہو گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں سب سے بہترین میٹرو بس سروس منصوبہ ہے۔ منصوبے سے طلبہ کو بھی فائدہ ہو گا اور لوگوں کو اسپتال جانے میں بھی مدد مل سکے گی۔

بی آر ٹی کا کرایہ کتنا ہو گا؟

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے پیشِ نظر بی آر ٹی کا کم سے کم کرایہ 10 اور زیادہ سے زیادہ 50 روپے ہو گا۔

ان کے بقول مناسب کرائے سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور عام لوگوں کو مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریکِ انصاف کے کئی رہنما سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے اسلام آباد، لاہور اور ملتان میٹرو بس منصوبوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

تاہم اب حزبِ اختلاف میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما تحریکِ انصاف کے صوبائی حکومت کے اس منصوبے کو حکومت کی ناقص کارکردگی قرار دے رہے ہیں۔

بی آر ٹی بسیں عوام کے لیے چلا دی گئی ہیں۔ (فائل فوٹو)
بی آر ٹی بسیں عوام کے لیے چلا دی گئی ہیں۔ (فائل فوٹو)

پشاور قومی جرگہ میں شامل سابق صوبائی وزیر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا امان اللہ حقانی کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ مالی بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے 45 دن دیے تھے۔

مگر صوبائی حکومت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔

مولانا امان اللہ حقانی کا کہنا ہے کہ وہ حکمِ امتناع خارج کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

ان کے بقول اس منصوبے میں وسیع پیمانے پر مالی بدعنوانیاں کی گئیں ہیں۔

افتتاح سے قبل بس منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین نے احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی دی تھی۔ تاہم پولیس کو یہ احتجاج روکنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

بی آر ٹی کے ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔

ملازمین اور مزدروں کے علاوہ بعض ٹھیکہ داروں نے لاہور کی کنسٹرکشن کمپنی پر بھی بقایاجات ادا نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG