رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان نے بھارت کو مبینہ جاسوس کلبھوشن تک قونصلر رسائی دے دی


(فائل فوٹو)

پاکستان نے سزائے موت کے منتظر مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو تک بھارت کو قونصلر رسائی دے دی ہے۔

جمعرات کو پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کے دو قونصلر افسران کو بلا رکاوٹ و بلا تعطل قونصلر رسائی فراہم کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن جادھو کو دوسری مرتبہ قونصلر رسائی فراہم کی گئی اور یہ قونصلر رسائی بھارتی درخواست پر دی گئی۔

ادھر، بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان کی جانب سے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی فراہم کیے جانے کے بعد کہا کہ بھارتی قونصلر اہلکاروں کو جادھو سے ''بلا تعطل اور غیر مشروط ملاقات'' نہیں کرنے دی گئی؛ اور یہ کہ ''اس دوران نظر آرہا تھا کہ وہ دباو میں ہیں''۔

ایک بیان میں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت کی اپیل کے باوجود پاکستان نے بے روک ٹوک رسائی نہیں دی۔ ملاقات کے دوران پاکستانی اہلکار بھارت کے احتجاج کے باوجود جادھو کے قریب موجود تھے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ''بات چیت کو کیمرے میں ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔ ان حالات میں قونصلر اہلکار اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان نے جو رسائی دی وہ بامعنی نہیں ہے۔ لہٰذا، وہ اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے واپس آگئے''۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق ”وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کلبھوشن کے اہل خانہ کو اس صورت حال سے آگاہ کرا دیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ اس معاملے میں پاکستان کا رویہ رکاوٹ ڈالنے والا اور غیر ایماندارنہ تھا۔ اس نے نہ صرف 2019 کے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی بلکہ اپنے آرڈیننس کے مطابق عمل کرنے میں بھی وہ ناکام رہا۔“

اس سے قبل، پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ کلبھوشن کو اس سے قبل دو ستمبر 2019 کو قونصلر رسائی فراہم کی گئی تھی جب کہ 25 دسمبر 2017 کو کلبھوشن کی اُن کی والدہ اور اہلیہ سے بھی ملاقات کرائی گئی تھی۔

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کلبھوشن جادھو سے بھارتی اہلکاروں کی ملاقات کے مقام کو خفیہ رکھا گیا۔ یہ ملاقات پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی سہ پہر تین بجے کرائی گئی جس میں بھارتی ناظم الامور گورو آہلووالیا بھی شامل تھے۔

قبل ازیں بھارتی ذرائع ابلاغ نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ بھارت نے کلبھوشن جادھو کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست اور دوسری مرتبہ قونصلر رسائی دینے کی پیش کش کا پاکستان کو جواب دے دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارت نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ اگر وہ عالمی عدالتِ انصاف کے حکم پر واقعی عمل درآمد کرنا چاہتا ہے تو کلبھوشن تک غیر مشروط سفارتی رسائی دے۔

خیال رہے کہ پاکستانی حکام نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر من و عن عمل کرتے ہوئے کلبھوش جادھو کو قونصلر رسائی دی۔

پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ مئی 2020 میں آرڈیننس جاری کر کے انہیں 60 روز کے اندر سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی موقع فراہم کیا۔ لیکن بھارتی جاسوس اپیل دائر کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اسی مضحکہ خیز کھیل کا حصہ ہے جو پاکستان گزشتہ چار سال سے اس معاملے میں کھیل رہا ہے۔

بھارتی حکام کا مطالبہ تھا کہ جس کمرے میں یہ ملاقات ہو وہاں ویڈیو، آڈیو ریکارڈنگ کی بھی کوئی سہولت نہ ہو۔

پاکستان کی فوجی عدالت نے جاسوسی، دہشت گردی اور تخریب کاری کے الزامات کے تحت اپریل 2017 میں کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔

کلبھوشن کی فیملی سے ملاقات کے انداز پر بھارتی وزارت خارجہ کا سخت رد عمل
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:27 0:00

ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے گزشتہ سال جولائی میں پاکستان کو کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان کی فوجی عدالت کی طرف سے انہیں دی گئی سزائے موت پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔

پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت 2016 میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ دو بھارتی اہلکاروں کو تنہائی میں کلبھوشن سے ملنے کی اجازت دے اور اس پر اصرار نہ کرے کہ بات چیت صرف انگریزی زبان میں ہو۔

اس سے قبل پاکستان نے قونصلر رسائی دینے کی پیش کش کرتے وقت اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ملاقات کے دوران بات چیت صرف انگریزی میں ہو گی اور اس دوران پاکستانی اہل کار بھی موجود رہیں گے۔

ایک سابق سفارت کار اور سینئر تجزیہ کار سریش گوئل نے نئی دہلی میں وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم کو بتایا کہ بھارت یہ جاننا چاہتا ہے کہ نظر ثانی کی اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے میں پاکستانی دباؤ تو نہیں ہے۔

پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کلبھوشن پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور انہوں نے اپنی مرضی سے نظرثانی کی اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

سریش گوئل نے مزید کہا کہ اب کلبھوشن کو بچانے کا صرف قانونی راستہ بچا ہے۔ بات چیت کا راستہ ختم ہو چکا ہے۔ اگر قانونی کوشش کامیاب نہیں ہوتی ہے تو پھر پاکستان پر عالمی دباؤ ڈلوانے کا راستہ بچے گا لیکن اس پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

بھارت نے نو جولائی کو کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں قانونی راستہ اختیار کرے گا۔

پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور ان کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ہے۔ لیکن بھارت اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہہ چکا ہے کہ کلبھوشن بحریہ کے ریٹائرڈ افسر ہیں جن کا ’را‘ سے کوئی تعلق نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG