رسائی کے لنکس

logo-print

'نفرت پھیلا کر اقوام متحدہ میں پاکستان کا قد اونچا نہیں ہو گا'


نئی دہلی کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے — فائل فوٹو

بھارت کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سید اکبر الدین نے کہا ہے کہ اگر پاکستان جنرل اسمبلی میں کشمیر کا معاملہ اٹھا کر اپنا قد چھوٹا کرنا چاہتا ہے تو ضرور کرے البتہ بھارت کا قد اونچا ہی رہے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے پاکستان بھارت میں دہشت گردی اور دراندازی میں ملوث تھا اب وہ بھارت کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہا ہے۔

جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں سید اکبر الدین نے پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کے سوال پر جواب دیا کہ ریاستیں اپنے اپنے انداز میں عالمی فورمز پر معاملات زیرِ بحث لاتی ہیں۔ پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "ہوسکتا ہے کوئی اپنے قد کو چھوٹا کرے لیکن ہمارا رد عمل بہت بلند ہوگا۔ وہ خود کو نیچے گرا سکتے ہیں لیکن ہم اپنا قد اونچا رکھیں گے۔"

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں سالانہ اجلاس میں آئندہ ہفتے 27 ستمبر کو پہلے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا خطاب ہوگا جبکہ اسی روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ جنرل اسمبلی میں کشمیر کا معاملہ اٹھائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت میں رواں برس کے شروع سے ہی کشیدگی تھی تاہم پانچ اگست کو نئی دہلی نے آئین میں ترمیم کی اور بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کی۔ جس کے بعد گزشتہ سات ہفتوں سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پابندیاں عائد ہیں جبکہ کئی علاقوں میں کرفیو بھی نافذ رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر پہلے اقوامِ متحدہ جائیں گے اور پھر قوم کو بتائیں گے کہ لائن آف کنٹرول کب جانا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ برائے جنوب و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے عمران خان کے بیان کا خیر مقدم کیا تھا۔

ایلس ویلز نے کہا تھا کہ امریکہ عمران خان کے بیان سے اتفاق کرتا ہے کہ پاکستان سے کوئی بھی عسکریت پسند اگر کشمیر میں پُرتشدد کارروائی کرے گا تو وہ پاکستان اور کشمیر دونوں کا دشمن ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر شدید احتجاج کیا ہے اور دو بار ایسا بھی ہوا ہے کہ جب نئی دہلی نے وی وی آئی پی پرواز کے لیے پاکستان سے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تاہم دونوں بار اسلام آباد نے بھارت کی درخواستوں کو در کر دیا۔

بھارت نے پہلے صدر اور پھر وزیر اعظم کی پرواز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے اجازت طلب کی تھی۔ تاہم دونوں بار اسلام آباد نے رد کرنے کی وجہ کشمیر کی صورت حال کو قرار دیا تھا۔

حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیر خارجہ سمیت تین وزرا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر میں صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر ہی بات ہو سکتی ہے۔ نئی دہلی کی پوزیشن بالکل واضح ہے کہ کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے کنٹرول میں ہے وہ بھارت کا حصہ ہے۔ امید ہے کہ ایک دن وہ بھارت کا حصہ ہو گا۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بیان دیا تھا کہ اسلام آباد سے مذاکرات صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر ہوں گے جس میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے۔ اس علاقے پر پاکستان کا قبضہ غیر قانونی ہے۔

بھارتی وزرا کے بیانات پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ کشمیر کے بارے میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے۔

دفتر خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے کہا تھا کہ وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر جارحانہ بیانات کا سختی سے نوٹس لے جن سے علاقے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے جو خطے کے امن و استحکام کیلئے انتہائی خطرناک ہو گا۔

واضح رہے کہ پاکستان بھارت کو کشمیر پر مذاکرات کی پیشکش کرتا رہا ہے جب کہ بھارت اس بات پر مُصِر ہے کہ پہلے پاکستان اپنی سر زمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے سے روکے، پھر مذاکرات کے کسی سلسلے پر بات ہو گی۔

بھارت متعدد بار یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ پاکستان کی سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ جب کہ پاکستانی حکام بھارت کے اس دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔

رواں سال فروری میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی نیم فوجی دستوں پر ایک حملہ ہوا تھا جس میں دو درجن سے زائد اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان میں ایک کالعدم تنظیم پر لگاتے ہوئے پاکستان میں اس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔

پاکستان نے بھارت کے دو جنگی جہاز گرانے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر کے نئی دہلی کے حوالے کر دیا تھا۔ دوسری جانب بھارت نے بھی پاکستان کا ایک ایف سولہ جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG