رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کا کشمیر سے متعلق بیان، امریکہ کا خیر مقدم


دو روز قبل پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اگر کوئی بھی شخص پاکستان سے متنازع کشمیر میں جا کر لڑے گا تو وہ پاکستان اور کشمیریوں دونوں کا دشمن ہو گا — فائل فوٹو

امریکہ کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ برائے جنوب و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے کشمیر سے متعلق بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

دو روز قبل پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اگر کوئی بھی شخص پاکستان سے متنازع کشمیر میں جا کر لڑے گا تو وہ پاکستان اور کشمیریوں دونوں کا دشمن ہو گا۔

عمران خان کے بیان کو امریکی سفارت کار ایلس ویلز نے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان سے کوئی بھی عسکریت پسند اگر کشمیر میں تشدد کی کارروائی کرے گا تو وہ پاکستان اور کشمیر دونوں کا دشمن ہوگا۔

عمران خان کے بیان کو سراہتے ہوئے ایلس ویلز نے کہا کہ امریکہ وزیر اعظم کے بیان سے اتفاق کرتا ہے۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا عزم خطے کے پائیدار استحکام کے لیے اہم ہے ۔

بدھ کو پشاور میں نیوز کانفرنس کے دوران عمران خان نے کہا تھا کہ اگر کوئی بھی پاکستان سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جا کر لڑے گا تو وہ سب سے پہلے کشمیر پر ظلم کرے گا۔

وزیر اعظم کےبقول بھارت کو کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے بہانہ چاہیے تاکہ دنیا کو یہ کہہ سکے کہ کشمیری تو ان کے ساتھ ہیں جبکہ عسکریت پسند پاکستان سے آ رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس وقت کشمیر میں نو لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے۔

اعلیٰ امریکی سفارت کار کا یبان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم عمران خان رواں ماہ نیو یارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ جائیں گے۔

عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا معاملہ بھر پور طریقے سے اٹھائیں گے۔

دوسری جانب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس موقع پر امریکہ میں موجود ہوں گے جبکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور بھارت کی وزرائے اعظم سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم میں ملاقات کا امکان نہیں ہے۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر اپنا کردار ادا کرنے کے تیار ہیں۔

انتونیو گوتریس نے یہ اسی صورت میں ممکن قرار دیا ہے جب متعلقہ فریقین اس کو قبول کریں گے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ اس معاملے پر بات کرتے رہیں گے۔

کشمیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ ان کی واضح رائے ہے کہ اس خطے میں انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں عالمی ادارے کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ مسئلے کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت نہایت ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان معمول کے سفارتی رابطے معطل ہیں۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بھارت سے اسی صورت بات چیت ہو سکتی ہے جب نئی دہلی کشمیر میں پانچ اگست سے پہلے کی صورت حال بحال نہیں کر دیتا۔

دوسری جانب نئی دہلی کشمیر پر کیے گئے اقدامات کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے اور اس پر بات چیت پر تیار نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG