رسائی کے لنکس

بھارت میں افغانستان پر کل جماعتی کانفرنس: ’بے یقینی کے حالات میں پالیسی بنانا بے وقوفی ہوگی‘


بھارت کے وزیرِ خارجہ جے شنکر نے اپوزیشن رہنماؤں کو افغانستان کی صورتِ حال سے آگاہ کیا۔(فائل فوٹو)

کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کی صورتِ حال پر بھارت میں حکومتی سطح پر غور و فکر کے ساتھ اب اپوزیشن کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا گیا ہے۔

افغانستان کی صورت حال پر غور کے لیے جمعرات کو نئی دہلی میں ایک کل جماعتی اجلاس منعقد کی گئی جس میں 31 اپوزیشن جماعتیں شریک ہوئیں۔

رپورٹوں کے مطابق بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپوزیشن رہنماوں کے سوالات کے جواب دیے اور افغانستان کے بارے میں بھارت کے موقف سے سایسی قیادت کوآگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورت حال بہت نازک ہے۔ ہماری اولین ترجیح وہاں سے لوگوں کو بحفاظت نکالنا ہے۔

’طالبان نے وعدوں کا پاس نہیں رکھا‘

رپورٹس کے مطابق وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ طالبان نے دوحہ سمجھوتے میں امریکہ کے ساتھ جو وعدے کیے تھے ان کا پاس نہیں رکھا۔ لیکن جے شنکر نے اس وعدہ خلافی کی کوئی وضاحت نہیں کی۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے میں دیگر باتوں کے علاوہ کابل میں تمام طبقات کے نمائندوں پر مشتمل حکومت کے قیام اور مذہبی آزادی اور جمہوریت کی بھی بات کہی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں بھارتی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ اب تک 15 ہزار افراد نے افغانستان سے نقل مکانی کے لیے بھارت سے مدد طلب کی ہے۔

حکومت و اپوزیشن کے نظریات یکساں

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ افغانستان کی صورت حال پر تمام سیاسی پارٹیاں اور حکومت مضبوط قومی موقف رکھتی ہیں اور حکومت نے موجودہ صورت حال پر قومی اتحاد کے جذبے کے تحت نکتۂ نظر اختیار کیا ہے۔

انھوں نے کہا اس معاملے میں تمام لوگوں کے نظریات یکساں ہیں۔ افغان عوام کے ساتھ بھارت کی دوستی ہم سب کے لیے اہم ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس کے دوران بیشتر لوگوں کی تشویش شہریوں کو افغانستان سے بحفاظت نکالنے کے سلسلے میں تھی۔

ان کے مطابق بھارت افغانستان کے سلسلے میں کافی سرگرم ہے۔ آپ نے وہاں کے حالات دیکھے ہیں۔ جب تک حالات بہتر نہیں ہو جاتے آپ لوگوں کو بھارت کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں اور صبر کرنا ہوگا۔

پہلی ترجیح لوگوں کی واپسی

اس سے قبل جے شنکر نے کل جماعتی اجلاس میں کہا کہ ہم بہت سے بھارتی شہریوں کو واپس لائے ہیں۔ ہم یقینی طور پر ہر ایک کو واپس لانے کی کوشش کریں گے۔ حکومت نے الیکٹرانک ویزا پالیسی کا اعلان کیا ہے اور وہ جتنی جلد ممکن ہو سکے گا تمام شہریوں کو وہاں سے واپس لایا جائے گا۔

ان کے مطابق ہم نے خاص طور پر کابل ایئرپورٹ پر انتہائی مشکل حالات میں انخلا کا عمل شروع کیا ہے۔ ہماری فوری توجہ لوگوں کی واپسی پر ہے اور ہمارا طویل مدتی مفاد افغان عوام کے ساتھ دوستی میں ہے۔

پارلیمنٹ ہاوس میں ساڑھے تین گھنٹے تک جاری اجلاس میں 26 رہنماوں نے اظہار خیال کیا۔ سکریٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا نے جے شنکر سے قبل 45 منٹ کی تقریر میں شرکا کے سوالوں کا جواب دیا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت تمام فریقوں اور علاقائی ممالک کے رابطے میں ہے اور وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کیا افغانستان میں صرف طالبان کی حکومت بنتی ہے یا پھر اس میں دیگر افغان رہنما بھی شریک ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بھارت امریکہ،برطانیہ، فرانس، روس، چین، جرمنی، قطر، ایران، ازبکستان، تاجکستان اور قزاقستان اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے بھی رابطے میں ہے۔

طالبان سے متعلق حکمتِ عملی؟

اپوزیشن رہنماؤں نے جے شنکر سے یہ جاننا چاہا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد بھارت مستقبل میں بننے والی حکومت کو تسلیم کرنے اور طالبان کے ساتھ روابط کے سلسلے میں کیا اقدام کر رہا ہے۔

بھارت میں مقیم افغان طالب علم تشویش کا شکار
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:51 0:00

شرکا کے اس سوال کے جواب میں ایس جے شنکر نے کہا کہ نہ تو کابل میں زمینی سطح پر کوئی یقینی صورت حال ہے اور نہ ہی افغانستان کے نئے حکمرانوں کے سلسلے میں عالمی برادری کا کوئی موقف سامنے آیا ہے۔

ان کے مطابق کابل میں حکومت کا معاملہ غیر یقینی ہے۔ دوحہ امن معاہدہ تعطل کا شکار ہے۔ اگر افغانستان میں نظم و نسق کی صورت حال نازک ہوتی ہے تو پابندی عائد کرنے کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ افغانستان میں امریکہ کب تک رہے گا اس بارے میں بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

جے شنکر کے مطابق ان غیر یقینی حالات میں کابل کے سلسلے میں کسی پالیسی کا اعلان کرنا بے وقوفی ہوگی۔ بھارت کو ایسے راستے پر چلنے سے بچنا چاہیے۔

’بھارت جلد ہی جان جائے گا‘

دریں اثنا طالبان رہنما شہاب الدین دلاور نے افغانستان کی نئی حکومت کے استحکام پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے شبہات کے اظہار پر کہا کہ بھارت بہت جلد یہ جان جائے گا کہ طالبان خوش اسلوبی کے ساتھ حکومت چلا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد نریند رمودی نے گجرات میں ایک پروگرام میں کہا تھا کہ دہشت گردی کی بنیاد پر کچھ دنوں تک حکومت کی جا سکتی ہے لیکن ایسی حکومت مستقل نہیں چل سکتی۔

شہاب الدین دلاور نے کابل میں ریڈیو پاکستان کے نمائندے بلال خان محسود کو انٹرویو میں بھار ت کو خبردار کیا تھا کہ وہ افغانستان کے اندرونی امور میں مداخلت نہ کرے۔

بھارت کی پالیسی مبہم ہے

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بھارت کی پالیسی مبہم ہے۔

بین الاقوامی امور کے سینئر تجزیہ کار اسد مرزا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ طالبان نے دوحہ سمجھوتے میں کیے گئے اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھا، ایسا لگتا ہے کہ جلد بازی میں دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اس کا ایک مقصد یہاں کے قومی میڈیا اور عوام کے ایک خاص طبقے کو مطمئن کرنا ہے۔ ورنہ بھارت خود دوحہ میں مذاکرات کے آخری ادوار میں طالبان سے بات چیت کرتا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان سے متضاد خبریں آرہی ہیں اور جو افغان رہنما ٹوئٹر پر سرگرم ہیں ان کی جانب سے آرہی ہیں۔ ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ افغانستان کی آئندہ کی حکومت کی شکل و صورت کیا ہوگی۔

ان کے خیال میں طالبان خود پس و پیش میں ہیں۔ پنجشیر میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ اس کا بھی نئی حکومت کے قیام پر اثر پڑے گا۔ اس لیے بھارت کا یہ بیان کہ طالبان نے وعدوں کا پاس نہیں رکھا جلد بازی میں دیا گیا بیان لگتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت نے قندھار میں اپنا قونصل خانہ اور کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے میں عجلت سے کام لیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت تو افغانستان کا دیرینہ دوست ہے اور دونوں میں صدیوں پرانے تعلقات ہیں تو پھر ایسے میں بھارت کو اتنی جلدی یہ قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ وہ بھی اس صورت میں جبکہ طالبان نے بھارتی سفارت خانے کے عملے کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ان کے بقول اگر قونصل خانہ اور سفارت خانہ بند نہیں ہوتا تو وہاں سے بھارت آنے والوں کی اچھی طرح مدد کی جا سکتی تھی خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہندوؤں اور سکھوں کو نکالنے کی بات کرنا اس کے حق میں نہیں ہے۔ اس سے افغانستان اور بھارت کے رشتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بھارت کے ایک سابق فوجی لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ایچ ایس پناگ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ بھارت افغانستان کے بارے میں بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر سکا۔

ان کے مطابق بھارت افغانستان میں امریکی افواج کے قیام، طالبان کی طاقت اور اشرف غنی حکومت کی اہلیت کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کی۔

انھوں نے بھارت کی جانب سے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سفارت خانہ کھلا رہتا تو اس سے طالبان کے ساتھ دوریاں کم کرنے میں مدد ملتی۔ اس کے علاوہ بھارت میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے مفادات کا بھی تحفظ ہو سکتا تھا۔

ایک زاویہ یہ بھی ہے

لیکن بعض دیگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کابل میں بھارتی سفارت خانے پر 2008 میں اور 2009 میں دو بار حملے کیے گئے۔ جب کہ 2017 میں اس کے مشن کے باہر زوردار بم کا دھماکہ ہوا تھا۔ لہٰذا بھارتی حکومت نے اپریل 2020 سے ہی اپنے سفارتی عملے کو وہاں سے نکالنا شروع کر دیا تھا۔

ان کے خیال میں حکومت کا یہ قدم درست ہے۔ اگر اس نے سفارتی عملے کو واپس نہیں بلایا ہوتا تو ان کے تحفظ کے سلسلے میں تشویش باقی رہتی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت نے دیکھو اور انتظار کرو کی جو پالیسی اپنائی ہے وہ بالکل درست ہے۔ ان حالات میں اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

خاتون رکن پارلیمنٹ کی ڈپورٹیشن کا معاملہ

اجلاس کے دوران افغانستان کی خاتون رکن پارلیمنٹ رنگینا کرگر کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

افغان رکن پارلیمنٹ کو 20 اگست کو استنبول سے نئی دہلی پہنچنے پر اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 16 گھنٹے تک روکے رکھا گیا اور پھر انھیں اسی پرواز سے استنبول واپس بھیج دیا گیا تھا۔

کانگریس کے رہنما ملک ارجن کھرگے اور ادھیر رنجن چوہدی نے اس معاملے کو اٹھایا۔ اس پر حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ انھیں غلطی سے واپس کر دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ رپورٹوں کے مطابق بھارتی ویزا والے بہت سے افغان شہریوں کے پاسپورٹ طالبان نے لے لیے ہیں۔ لہٰذا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس معاملے پر اظہار افسوس کیا۔

رنگینا کرگر نے نئی دہلی کے اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے امور کے انچارج جے پی سنگھ نے ان سے بات کی اور جو کچھ ہوا اس کے لیے ان سے معافی مانگی۔ اس کے علاوہ انہیں الیکٹرانک ویزا اپلائی کرنے کا بھی کہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG