رسائی کے لنکس

طالبان کے بھارت کے لیے ’مثبت اشارے‘، مستقبل میں روابط بڑھانے کا عندیہ


بھارتی اخبار کے مطابق دوحہ میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے اہم رکن عباس استانکزئی نے بھارت کو غیر رسمی طور پر کابل میں سفارتی عملہ برقرار رکھنے کے پیغام دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

افغانستان پر قابض ہونے والے طالبان کے بھارت سے روابط پر​ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ کابل سے بھارت کے ہائی کمشنر اور سفارتی عملے کو بحفاظت نکالنے میں طالبان کی مدد کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جس وقت طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو بھارت کے سفارت خانے میں 150 سفارت کار موجود تھے۔ متعدد مسلح طالبان سفارت خانے کے گیٹ کے باہر پہنچے تو سفارت کار وہاں سے نکلنے کے لیے فکر مند تھے۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی عملہ 24 گاڑیوں میں سفارت خانے کی عمارت سے نکلا اور طالبان نے کسی مداخلت یا رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے سفارت کاروں کو کابل کے گرین زون سے نکلنے اور ایئرپورٹ تک جانے میں مدد فراہم کی۔

اطلاعات کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے بھارت کے سفارت کاروں کے قافلے کو سیکیورٹی فراہم کی اور انہیں بحفاظت ہوائی اڈے تک پہنچایا۔

پانچ منٹ کا راستہ پانچ گھنٹے میں

ایک بھارتی سفارت کار کے مطابق ان لوگوں کو گرین زون سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی جس کے بعد بھارت کے سفارتی عملے نے طالبان سے رابطہ قائم کیا اور ان سے کہا کہ وہ قافلے کو بحفاظت وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کریں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل وہاں سے نکلنے کی دو کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ جس کے بعد رات میں قافلہ نکلا۔ راستے میں ہزاروں افراد موجود تھے۔ متعدد چوکیاں تھیں۔ کئی جگہ ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن طالبان نے گاڑی سے اتر کر بھیڑ کی جانب اسلحہ کرکے قافلے کے لیے راستہ بنایا۔

سفارت کار کے مطابق اس طرح پانچ کلومیٹر کا راستہ پانچ گھنٹے میں طے ہوا۔ جب بھارتی قافلہ ایئرپورٹ کے احاطے میں داخل ہوا تو طالبان وہاں سے لوٹ گئے۔ وہ ایئرپورٹ کے اندر نہیں گئے۔

طالبان کی بھارت سے ’اپیل‘

نئی دہلی کے اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سینئر طالبان رہنما شیر محمد عباس استنک زئی نے غیر رسمی طور پر نئی دہلی سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا سفارت خانہ بند نہ کرے۔ کابل میں اپنی سفارتی موجودگی یقینی بنائے۔

رپورٹس کے مطابق جب بھارت نے اپنے ہائی کمشنر، سفارت کاروں اور شہریوں سمیت 200 افراد کو افغانستان سے نکالنا شروع کیا تو اس سے دو دن قبل پیر کو طالبان کی رہنما کی جانب سے بھارت کو یہ پیغام پہنچایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ شیر محمد عباس استنک زئی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کرنے والے طالبان کے اہم ترین ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔ چوں کہ وہ ماضی میں افغانستان میں بھارت کے کردار کے ناقد رہے ہیں۔ اس لیے ان کی جانب سے اس پیغام کا ملنا نئی دہلی اور کابل میں بھارتی اہلکاروں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔

طالبان رہنما نے بھارت سے کہا کہ وہ کابل کی سیکیورٹی کے سلسلے میں بھارت کی تشویش سے آگاہ ہیں۔ لیکن بھارت کو کابل میں اپنے سفارت خانے کے عملے کے تحفظ کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی اور کابل میں موجود بھارتی اہلکاروں نے اس پیغام کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ اس پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے سفارتی عملے اور شہریوں کو کابل سے نکالنے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔

’طالبان تنہا نہیں ہونا چاہتے‘

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان عالمی برادری کے رابطے میں رہنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مثبت پیغامات دے رہے ہیں اور بھارت کے ذہن کو بھی اپنے لیے صاف کرنا چاہتے ہیں۔

بھارت نے طالبان کو دہشت گرد قرار دینے کے باوجود حالیہ مہینوں میں ان کے رہنماؤں سے رابطے اور بات چیت کا آغاز کیا تھا۔

اس سے قبل 16 اگست کو طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ طالبان سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے کاموں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے اور انھیں محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا۔

ملا عبد الغنی برادر سے رابطے

اس سے قبل بھارتی میڈیا میں ایسی رپورٹس شائع ہوئی تھیں کہ بھارت نے ملا عبد الغنی برادر اور دوسرے رہنماؤں کے ساتھ رابطوں کا آغاز کیا ہے۔ ملا برادر کے علاوہ بھارت کے ملا خیر اللہ خیرخواہ اور ملا محمد فاضل سے رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔

یہ رپورٹس بھی سامنےآچکی ہیں کہ شیر محمد عباس استنک زئی کے علاوہ پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبد السلام ضعیف نے بھی طالبان سے رابطہ قائم کرنے کے لیے غیر رسمی طور پر بھارت سے درخواست کی ہے۔

ڈیرہ دون کا شیرو

خیال رہے کہ شیر محمد عباس استنک زئی نے 1982 اور 1983 میں افغان فوج کے ایک عہدے دار کی حیثیت سے بھارت کے علاقے ڈیرہ دون میں قائم انڈین ملٹری اکیڈمی میں ٹریننگ حاصل کی تھی۔ بعد میں وہ طالبان میں شامل ہو گئے تھے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ ڈی اے چترویدی نے بھارت کے اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کو بتایا کہ ڈیرہ دون میں انھیں ان کے ساتھی شیرو کہہ کر بلاتے تھے۔ البتہ وہ انھیں سخت گیر نہیں سمجھتے تھے۔

مبصرین کے مطابق شیر محمد کے اس غیر رسمی پیغام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ طالبان بھارت سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ بھارت طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے۔

ان کے مطابق طالبان نہیں چاہتے کہ بھارت کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کرے اور جن ترقیاتی منصوبوں پر وہ کام کر رہا ہے ان کو نامکمل ہی چھوڑ دے۔

یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارت جن منصوبوں پر کام کر رہا ہے وہ افغان عوام کے لیے ہیں اور ہم چاہیں گے کہ انھیں مکمل کیا جائے۔

بھارت کا محتاط رویہ

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ طالبان کا یہ رویہ بھارت کے لیے بہت مثبت ہے اور توقع ہے کہ بھارت بھی اسی طرح مثبت انداز میں جواب دے گا۔ لیکن فی الوقت بھارت نے بہت محتاط رویہ اپنا رکھا ہے۔

سینئر تجزیہ کار شیخ منظور احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ طالبان پہلے کے مقابلے میں اس بار بدلے ہوئے لگ رہے ہیں۔ وہ عالمی سطح پر تنہا نہیں ہونا چاہتے۔ اس لیے انھوں نے تمام ملکوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے سفارت کاروں کو وہاں سے مت نکالیں۔ یہ پیغام بھارت کے لیے بھی تھا۔

ان کے مطابق اب جب کہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ طالبان نے غیر رسمی طور پر بھارت سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا سفارت خانہ بند نہ کرے تو صورتِ حال کسی حد تک واضح ہوئی ہے۔ لیکن ابھی پوری طرح واضح نہیں۔

بھارت جلد بازی نہیں کرے گا

ان کے خیال میں چونکہ بھارت طالبان کو دہشت گرد کہتا رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں میں تلخیاں تھیں اس لیے بھارت کے لیے فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ بھارت ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارت کا خیال تھا کہ طالبان انتقامی کارروائی کریں گے اسی لیے اپنا سفارتی عملہ اور شہریوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔ البتہ ان کو نکالنے میں طالبان نے کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ ان کی مدد کی۔

ان کے مطابق بھارت کو کسی مؤقف کا اعلان کرنے میں وقت لگے گا۔ وہ اتنی جلدی طالبان کو تسلیم نہیں کرے گا جیسا کہ چین، روس، ترکی اور بعض دیگر ممالک نے اشارے دیے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارت صورتِ حال پر غور کرے گا افغانستان میں کیا صرف طالبان کی حکومت بنتی ہے یا اس میں تاجک، ہزارہ اور مقامی جنگجو سرداروں کو بھی شریک کیا جاتا ہے۔

عبد اللہ عبد اللہ بھارت کے لیے مددگار

شیخ منظور احمد دیگر تجزیہ کاروں کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ اگر نئی حکومت میں عبد اللہ عبد اللہ اور حامد کرزئی وغیرہ کوئی کردار ادا کرتے ہیں تو یہ صورتِ حال بھارت کے لیے حوصلہ بخش ہو گی۔ کیوں کہ عبد اللہ عبد اللہ بھارت کے قریب رہے ہیں اور وہ بھارت کو اپنا دوست مانتے ہیں۔

تاہم ان کے مطابق بھارت نے اپنا سارا جھکاؤ صدر اشرف غنی کی جانب کر رکھا تھا اور عبد اللہ عبداللہ کا الزام تھا کہ انتخابات میں بدعنوانی کی گئی اور ان کی جگہ پر اشرف غنی کو صدر نامزد کر دیا گیا۔ وہ اشرف غنی کے سیاسی حریف رہے ہیں اس لیے عبد اللہ عبد اللہ بھارت کے ساتھ کیا رویہ رکھتے ہیں اس کا اندازہ بھی وقت کے ساتھ ہوگا۔

لیکن سینئر تجزیہ کار منظور احمد اس سے انکار نہیں کرتے کہ اگر نئی حکومت میں عبد اللہ عبداللہ کسی بھی حیثیت سے شامل ہوتے ہیں تو ان کے بھارت کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے یہ بات بھارت کے حق میں جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بھارت یہ بھی دیکھنا چاہے گا کہ انسانی حقوق کے تعلق سے طالبان کا کیا رویہ رہتا ہے۔ حالاں کہ طالبان نے نے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

شیخ منظور احمد کے مطابق دیکھنا یہ ہے کہ طالبان اس پالیسی کو آئندہ بھی جاری رکھتے ہیں تو ان کے خیال میں عالمی برادری کے دروازے طالبان کے لیے کھل جائیں گے۔ اس صورت میں بھارت کو بھی کوئی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔

روس اور چین سے خطرہ

تجزیہ کار شیخ منظور احمد کہتے ہیں کہ امریکہ بھی نہیں چاہے گا کہ وہ طالبان سے بے تعلق رہے۔ کیوں کہ اگر اس نے ایسا کیا تو افغانستان میں روس اور چین کے اثرات بڑھ جائیں گے جو کہ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق جب امریکہ نے طالبان سے دوحہ میں مذاکرات شروع کیے تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اس نے طالبان کو ایک طاقت تسلیم کر لیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچ گیا تھا کہ ان کے بغیر افغانستان میں امن و استحکام قائم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے دونوں نے معاہدہ کیا اور معاہدے میں اشرف غنی حکومت کو شامل نہیں کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ نئی دہلی میں اس پر غور کیا گیا تھا کہ طالبان کے ساتھ خواہ نچلی سطح پر ہی سہی، رابطہ قائم کیا جائے۔

ان کے مطابق حامد کرزئی سے بھی بھارت کے اچھے رشتے رہے ہیں۔ انھوں نے شملہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ جب وہ دو بار صدر کے عہدے پر فائز رہے تو اس وقت بھی بھارت کے ساتھ افغانستان کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔

چین اور پاکستان کے کردار پر تشویش

تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارت کے سامنے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار نہیں رکھتا تو چین اور پاکستان کو وہاں کھلا میدان مل جائے گا۔

شیخ منظور کہتے ہیں کہ یہ صورت حال صرف بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ امریکہ، یورپی یونین اور دیگر ملکوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہوگی۔

ان کے خیال میں افغانستان کی ایک اسٹریٹجک پوزیشن ہے۔ وہ وسطی ایشیا سے ملا ہوا ہے۔ بھارت ایک بڑا ملک ہے اس لیے افغانستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کے پیش نظر بھارت کے لیے افغانستان سے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں اب جو صورت حال بن گئی ہے وہ بھارت کے لیے اچھی نہیں ہے۔ اشرف غنی کے دور میں اس ملک پر بھارت کے اچھے اثرات تھے لیکن اب اس کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ کی طالبان قیادت سے ملاقات

رپورٹس کے مطابق بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے رواں سال جون میں دوحہ میں طالبان رہنما ملا برادر اور دوسروں سے ملاقات اور بات چیت کی تھی۔ بھارت ایسی کسی ملاقات یا بات چیت سے انکار کرتا رہا ہے۔

دریں اثنا ایس جے شنکر نے نیویارک میں امریکہ کے اپنے ہم منصب انٹونی بلنکن سے افغانستان کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا ہے اور دونوں رہنماوں نے تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں رہنماوں نے افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور تعاون کا فیصلہ کیا۔

اس سے قبل جے شنکر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی افغانستان کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG