رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی نوجوان نے باپ کی خواہش پر لکڑی کے پتلے سے شادی کرلی


شیو موہن اور اس کے بیٹے کی شادی کے کچھ مناظر

بھارت میں ایک نوجوان نے اپنے 90 سالہ باپ کی 'آخری خواہش' پر لکڑی کے پتلے سے شادی کرلی۔

شادی عام انداز میں ہوئی جب کہ دلہا کی رشتے دار خواتین نے معمول کے مطابق شادی کی تمام روایات اور رسمیں ادا کیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے خبر رساں ادارے 'اے این آئی' کے حوالے سے بتایا ہے کہ شادی بدھ کو ریاست اتر پردیش کے دیہی علاقے پریاگ راج میں انجام پائی۔

نوجوان کا نام ظاہر نہیں کیا جارہا تاہم اس کے والد شیو موہن کا کہنا ہے کہ ان کے 9 بیٹے ہیں جن میں سے 8 کی شادی ہوچکی ہے۔ نویں بیٹے کے پاس کوئی جائیداد نہیں اور نہ ہی وہ ذہین ہے اس لیے میں سے اس کی شادی ایک لکڑی کے پتلے سے کردی۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیو موہن نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے سے بطور آخری خواہش پتلے سے شادی کرنے کا کہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق شیو موہن اپنی زندگی میں ہی تمام بیٹوں کی شادی کرنے کی آرزو رکھتے تھے۔

شیو موہن کے بیٹے کی دلہن کو روایت کے مطابق ریشمی لباس پہنایا گیا اور اسے پھولوں سے سجایا گیا۔

یہ شادی باقاعدہ ایک پنڈت کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔ عام شادی کی طرح لڑکے اور پتلے سے آگ کے گرد سات چکربھی لگوائے گئے اور دونوں کے گلے میں پھولوں کے ہار بھی پہنائے گئے۔

اطلاعات کے مطابق شیو موہن کا رشتے داروں سے بھی یہی اصرار تھا کہ ان کے مرنے سے پہلے ان کے تمام بیٹوں کی شادی ہوجائے۔ رشتہ داروں اور مقامی پجاریوں نے بظاہر اسے یقین دلایا کہ لکڑی کے پتلے سے شادی کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

۔۔۔ اور یوں اس شادی میں کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ سامنے نہیں آئی البتہ شادی میں لڑکے کے چند ہی رشتے دار شریک ہوسکے۔

شادی کی تمام روایات اور رسمیں ادا کرنے کے بعد چھوٹی سی دعوت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ رشتے داروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے عام شادی کی طرح ہی انجوائے کیا۔

بھارت میں غیر فطری شادیاں عام ہیں۔ اکثر لڑکیوں کو کچھ جانوروں کے ساتھ بھی شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے جب کہ درختوں سے شادی کرنا بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ ماضی میں ایسی شادیوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG