رسائی کے لنکس

logo-print

'مال ہے کیا؟' ؛ بالی وڈ کی نامور شخصیات منشیات کے معاملے میں شاملِ تفتیش


دپیکا پڈکون اور ان کے شوہر و بالی وڈ ایکٹر رنویرسنگھ

بالی وڈ کے آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد ایک جانب بھارت کے تحقیقاتی ادارے تفتیش کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں۔ تو دوسری جانب 'نارکوٹکس کنٹرول بیورو' کی تحقیقات کے باعث خودکشی کا معاملہ منشیات کے استعمال کی تحقیقات میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

بالی وڈ اسٹارز سے منشیات کے حصول اور استعمال کے حوالے سے پوچھ گچھ کا آغاز سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے کی جانے والی تحقیقات سے ہوا۔

سوشانت سنگھ راجپوت کی سابق ٹیلنٹ مینیجر جیا ساہا نے سوشانت کی خودکشی کی تفتیش کے دوران منشیات کے استعمال کے سلسلے میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو کو کچھ مشہور اداکاروں کے نام بتائے تھے۔

قبل ازیں سوشانت سنگھ کے منشیات کے استعمال اور ساتھی اداکارہ ریہا چکرورتی کی جانب سے انہیں منشیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ منشیات فروش گروہ سے رابطوں کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔

ریہا چکرورتی اور ان کے بھائی شووک چکرورتی منشیات کیس میں پہلے ہی گرفتار ہیں۔ سوشانت سنگھ کیس میں تحقیقاتی ادارے اب تک مجموعی طور پر 10 افراد کو گرفتار کر چکے ہیں۔

ریہا چکرورتی
ریہا چکرورتی

منشیات کے حصول اور استعمال سے متعلق تحقیقات کے لیے نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے سو کروڑ روپے کا بزنس کرنے والی متعدد فلموں کی ہیروئن اور میگا اسٹار دپیکا پڈوکون کو بھی طلب کر لیا ہے۔

بھارت کے اخبار 'ہندوستان ٹائمز' کے مطابق دپیکا پڈوکون کے علاوہ اداکارہ سارہ علی خان، شردھا کپور اور راکل پریت سنگھ کو بھی نارکوٹکس کنٹرول بیورو تحقیقات میں شامل کر رہا ہے۔

راکل پریت سنگھ جمعے کو بیورو آفس میں پیش ہوئیں۔ جہاں نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے حکام نے ان سے تفتیش کی۔ دپیکا پڈوکون کی مینیجر کرشمہ پرکاش سے بھی تفتیش کی گئی ہے۔

بالی وڈ کی صفِ اول کی ہیروئن دپیکا پڈوکون کی منشیات کے بارے میں اپنی مینجر کرشمہ پرکاش سے واٹس ایپ چیٹ بھی منظرِ عام پر آئی ہے۔ یہ چیٹ سامنے آنے کے بعد انہیں شامل تفتیش کیا گیا۔

چیٹ میں دپیکا پڈوکون مبینہ طور پر کرشمہ پرکاش سے منشیات ملنے کے بارے میں معلوم کر رہی ہیں۔ دورانِ تفتیش نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے دپیکا پڈوکون کی واٹس ایپ چیٹ کا ریکارڈ حاصل کیا تھا۔

دپیکا پڈوکون ہفتے کو نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے دفتر میں پیش ہوں گی اور سوالات کے جوابات دیں گی۔

دپیکا پڈوکون پیشی کے لیے بھارت کے سیاحتی ساحلی شہر گوا سے خصوصی طیارے کے ذریعے اپنے شوہر بالی وڈ اسٹار رنویر سنگھ کے ساتھ واپس ممبئی پہنچ چکی ہیں۔

بھارت کے اخبار 'انڈیا ٹو ڈے' کے مطابق دپیکا پڈکون سے جوابات تحریری طور پر لیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد ان کا موازنہ دپیکا پڈوکون کی مینیجر کرشمہ پرکاش سے کی گئی تفتیش سے حاصل کردہ معلومات سے کیا جائے گا۔

اداکار سیف علی خان کی بیٹی اور بالی وڈ اداکارہ سارہ علی خان کو بھی نارکوٹکس کنٹرول بیورو میں طلب کیا گیا ہے۔

سارہ علی خان اپنی والدہ اور مشہور اداکارہ امرتا سنگھ کے ہمراہ امریکہ میں چھٹیاں منا رہی تھیں۔ لیکن اب وہ بھی ممبئی پہنچ گئی ہیں، تاکہ تحقیقات میں شامل ہو سکیں۔

کرن جوہر کے فلم ساز ادارے 'دھرما پروڈکشنز' کے ایگزیکٹو پروڈیوسر شتیج پرشاد کو بھی نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

'انڈیا ٹو ڈے' کی رپورٹ کے مطابق منشیات کے حصول اور استعمال کے معاملے میں ملوث بالی وڈ کے متعدد اداکاروں، اداکاراؤں، پروڈیوسروں اور ڈائریکٹروں سمیت 50 افراد کے نام نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے پاس موجود ہیں۔

دوسری جانب​ اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والی بالی وڈ اسٹار کنگنا رناوت نے ٹوئٹر پر دپیکا پڈوکون پر طنز کیا۔

دپیکا کے ڈپریشن کے علاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کنگنا رناوت نے ٹوئٹ کیا کہ ذہنی دباؤ منشیات استعمال کرنے کی وجہ سے ہے۔ میرے ساتھ دہرائیں کہ ذہنی دباؤ منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد ہائی سوسائٹی کے امیر اسٹار بچے جو بہترین تربیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اپنے مینیجر سے پوچھتے ہیں مال ہے کیا؟

اس سے قبل کنگنا رناوت کا کہنا تھا کہ اگر فلم انڈسٹری میں منشیات کے استعمال کی تحقیقات ہوں تو بالی وڈ کے متعدد سر فہرست اسٹارز سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

کنگنا رناوت نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کو بالی وڈ میں منشیات کے حصول اور استعمال کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش بھی کی تھی۔

سوشانت سنگھ راجپوت
سوشانت سنگھ راجپوت

'ہندوستان ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق نارکوٹکس کنٹرول بیورو ٹی وی اور فلم انڈسٹری کی مزید مشہور شخصیات کو بھی طلب کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت 14 جون کو ممبئی میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔

بالی وڈ اسٹار کی مبینہ خودکشی کے بعد ان کے خاندان نے سوشانت کی گرل فرینڈ ریہا چکرورتی کو سوشانت کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے درخواست دائر کی تھی جس پر تحقیقات جاری ہیں۔

سوشانت سنگھ کی موت کے حوالے سے تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کر رہا ہے۔

ریہا چکرورتی پر سوشانت کو خودکشی پر اکسانے کا الزام ہے۔ جب کہ سوشانت کے ہاؤس مینیجر سیموئیل مرنڈا، باورچی دپیش ساونت اور ریہا چکرورتی کے بھائی شووک چکرورتی پر سوشانت سنگھ کو منشیات فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔

نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے عدالت کا آگاہ کیا تھا کہ ریہا چکرورتی منشیات فراہم کرنے والے سرگرم گروہ کا حصہ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG