رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ طاس معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں پر ہمارا حق ہے: پاکستان


لاہور کے قریب بہنے والے دریائے راوی میں پانی صرف انہی دنوں میں آتا ہے، جب سیلاب کے باعث بھارت کے لیے اس کا پانی روکنا ممکن نہیں ہوتا۔

سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے، پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ تین مغربی دریاؤں پر پاکستان کو ’’خصوصی حقوق‘‘ حاصل ہیں۔

ترجمان کے مطابق، ’’بھارت کی جانب سے ان تین دریاؤں کا رخ موڑنے کا کوئی اقدام جارحیت کا عمل شمار ہو گا‘‘۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے یہ بات اسلام آباد میں جمعرات کو ہفتہ وار اخباری بریفنگ کے دوران کہی۔

انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان کو جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے‘‘۔ ان سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کےحالیہ بیان پر رد عمل معلوم کیا گیا تھا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، بھارتی وزیر اعظم نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ان دریاؤں کا پاکستان کی سمت بہاؤ روک دیا جائے۔

سال 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے مطابق، راوی، ستلج اور بیاس پر بھارت کا مکمل استحقاق تسلیم کیا گیا، جب کہ سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق مانا گیا۔ تاہم، بھارت نے معاہدے کی شق 3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے حق حاصل ہے کہ ان مغربی دریاؤں پر بجلی پیدا کرنے کے لیے رن آف ریور ڈیم بنائے، ان کا پانی زراعت اور گھریلو ضروریات کے لیے استعمال کرے؛ اور یہ کہ اس نے یہ حق تسلیم کرا لیا ہے۔ اور یوں، شق نمبر 3 ہی پاکستان و بھارت کے درمیان تنازع کا سبب بنا ہوا ہے۔

اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کے پانی کا ہریانہ کی جانب رخ موڑ دیا جائے، چونکہ، بقول ان کے، ’’اس پانی پر ہمارے ملک اور (ہریانہ) ریاست کا حق ہے‘‘۔

پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نےالزام لگایا کہ ’’بھارت غیر ذمہ دار، جارحانہ ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے، جسے انسانی حقوق یا بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کوئی پرواہ نہیں‘‘۔ اس ضمن میں، دفتر خارجہ ترجمان نے بھارتی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کا ذکر کیا۔

پانچ اگست کو بھارتی حکومت نے آئین کی شق 370 کو معطل کر دیا تھا جس اقدام کے نتیجے میں بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG