رسائی کے لنکس

logo-print

سابق بھارتی وزیر داخلہ چدم برم کو کیوں گرفتار کیا گیا؟


فائل فوٹو

بھارت کے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی اے ) نے سینئر کانگریس رہنما اور سابق وزیر داخلہ و وزیر مالیات پی چدم برم کو گرفتار کر لیا ہے۔

چدم برم پر کانگریس دور حکومت کے دوران اپنے منصب کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ وہ مودی حکومت کی اقتصادی و کشمیر پالیسی کے سخت نکتہ چین بھی رہے ہیں۔

چدم برم کو جمعرات کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں تفتیش کے لیے پانچ روز کا ریمانڈ مانگا تھا۔

عدالت نے سماعت کے بعد چدم برم کو 26 اگست تک عدالتی تحویل میں دے دیا۔

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے گرفتاری سے استثنیٰ کی اُن کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

گرفتاری سے قبل سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، ای ڈی کے اہلکار کئی بار ان کے گھر گئے مگر وہ نہیں ملے۔

بدھ کی شب چرم برم اچانک کانگریس کے دفتر پہنچے جہاں انہوں نے ایک مختصر نیوز کانفرنس کی جس کے دوران وہ اپنی صفایا پیش کرتے رہے۔

نیوز کانفرنس کے بعد چدم برم گھر پہنچے جس کے فوراً بعد ہی سی بی آئی کے اہلکار بھی وہاں پہنچے اور دروازہ نہ کھولنے پر گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوگئے۔ بعدازاں انہیں گرفتار کرتے ہوئے سی بی آئی ہیڈ کوارٹر لے جایا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ہیڈ کوارٹر کے جس گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا، انہوں نے ہی 2011 میں بحیثیت مرکزی وزیر اس کا افتتاح کیا تھا۔

یاد رہے کہ چدم برم پر الزام ہے کہ انہوں نے بحیثیت وزیر مالیات اپنے منصب کا غلط فائدہ اٹھایا اور ایک ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی آئی این ایکس میڈیا کو مالی فائدہ پہنچایا۔

کمپنی کی ایک مالک اندرانی مکھرجی کے بیان پر، جو کہ اپنی بیٹی کے قتل کے الزام میں جیل میں قید ہیں انہیں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعت کانگریس نے چدم برم کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ چونکہ پی چدم برم موجودہ اقتصادی بد حالی کو بے نقاب کرتے رہے ہیں اس لیے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق چدم برم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ابھی تک ان کے خلاف فرد جرم بھی عائد نہیں ہوئی ہے۔

حکومت نے کانگریس کے الزام کی تردید کی ہے۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ قانون اپنا کام کر رہا ہے اور اس معاملے میں سیاسی دخل اندازی کی بات کرنا غلط ہے۔ اگر کوئی قصور وار ہے تو قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG