رسائی کے لنکس

logo-print

ایک ماہ کے دوران پاکستان میں 16 لاکھ انٹرنیٹ صارفین کا اضافہ


(فائل فوٹو)

کرونا وائرس لاک ڈاؤن اور آن لائن تدریسی عمل کے برھتے ہوئے رجحان کے نتیجے میں پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کےتازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 16 کروڑ 80 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

ایک ماہ کے عرصے میں موبائل براڈ بینڈ یعنی تھری جی اور فور جی صارفین کی تعداد میں 16 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی تاحال دور دراز علاقوں میں محدود ہے جسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ٹیلی مواصلات کے نگران ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق موبائل براڈ بینڈ صارفین کی تعداد جون 2020 میں آٹھ کروڑ گیارہ لاکھ (81.14ملین) سے بڑھ کر جولائی 2020 میں آٹھ کروڑ 27 لاکھ (82.76 ملین) ہو گئی ہے جو ایک ماہ میں سولہ لاکھ بیس ہزار نئے صارفین کا اضافہ ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک میں فور جی انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ جب کہ تھری جی کی طلب میں کمی دیکھی گئی۔

اسی ایک ماہ کے عرصے کے دوران موبائل فون صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جو 16 کروڑ 72 لاکھ سے بڑھ کر 16 کروڑ 80 لاکھ ہو گئے ہیں۔

صارفین بڑھنے کی وجہ کرونا وائرس کے سبب گھروں سے کام کا معمول اور آن لائن ذرائع سے تدریسی عمل بتایا جاتا ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے باعث دفاتر کے بجائے گھروں سے کام کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے اور تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث طلبہ آن لائن ذرائع سے کلاسیں لے رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی پر ریسرچ کرنے والے ادارے 'بائٹس فار آل' کے شہزاد احمد کہتے ہیں کہ موبائل براڈ بینڈ صارفین کی تعداد میں اضافہ مثبت پیش رفت ہے۔ تعلیمی مقاصد کے حصول کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے نئے لوگوں نے انٹرنیٹ کا استعمال شروع کیا ہے۔

تاہم شہزاد احمد کہتے ہیں کہ ملک میں انٹرنیٹ کی یکساں رسائی نہ ہونا ملک کے فیصلہ سازوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اس سے ان محروم علاقوں کے نوجوان اور طلبہ مواقع اور مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو رہے ہیں۔

دنیا بھر میں موبائل فون آپریٹرز کے مفادات کے لیے کام کرنے والی 'تنظیم گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونی کیشن' کے مطابق پاکستان میں اب بھی 10 میں سے پانچ سے بھی کم افراد موبائل براڈ بینڈ سروسز استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) پر کام کرنے والی تنظیم 'بیس_ایچ' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انیس شیخ کہتے ہیں کہ کرونا وائرس بحران کے دوران پوری دنیا میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اُن کے بقول پاکستان میں اس اضافے سے ثابت ہوتا ہے کہ آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی خدمات بہتر کی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ صارفین میں اضافے سے ہماری آئی ٹی کی خدمات اور برآمدات بڑھیں گی اور اس رجحان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان آئندہ چند برسوں میں خطے کے ممالک کے ہم پلہ کھڑا ہو سکے گا۔

انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی موبائل فون کمپنیوں کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے دنوں میں انٹرنیٹ کے استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں مجموعی طور پر 15 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG