رسائی کے لنکس

logo-print

ایران نے اہم جنگی مشقیں شروع کردیں


یہ جنگی مشقیں ایسےوقت میں ہورہی ہیں، جب ایران اورمغرب کےدرمیان کشیدگی بڑھی ہوئى ہے

ایران کے اعلیٰ تربیت یافتہ پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس اور اُس نازک اہمیت کے تنگ آبی راستے میں جنگی مشقیں شروع کردی ہیں، جہاں سے دنیا بھر کے لیے خام تیل جاتا ہے۔

پاسداروں کے بحری دستوں نے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے ایک ایسی کشتی کا مظاہرہ کیا ہے ، جس کے بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ وہ ریڈار پر دکھائى نہیں دیتی۔ ایران کا کہنا ہے کہ راکٹوں اور میزائیلوں سے مسلح 300 سے زیادہ تیز رفتار کشتیاں جمعرات سے شروع ہونے والی ان جنگی مشقوں میں حصّہ لے رہی ہیں۔

دنیا بھر کو فراہم کیا جانے والا 40 فیصد خام تیل ، خلیج فارس کے شمال میں واقع آبنائے ہرمُز سے گزرتاہے۔ایران کا کہنا ہے کہ اگر اُس پر حملہ کیا گیا تو وہ اس تنگ آبی راستے کو بند کردے گا۔

یہ جنگی مشقیں ایسے وقت میں ہورہی ہیں، جب ایران اور مغرب کے درمیان کشیدگی بڑھی ہوئى ہے۔مغرب کو شبہ ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری اسحلہ تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ واشنگٹن، ا یران کو اُس کے جوہری عزائم سے باز رکھنے کے لیے ڈپلومیسی کے علاوہ اُس کے خلاف نئى پابندیوں کی کوشش کررہا ہے ، لیکن ایران کے خلاف فوجی کارروائى ، ایک متبادل کے طور پر بدستور ممکن ہے۔
آ

XS
SM
MD
LG