رسائی کے لنکس

ایران پر جوہری بم بنانے کے الزام میں کتنی صداقت ہے؟


وسطیٰ ایران کے شہر اراک میں قائم بھاری پانی کا جوہری پلانٹ۔ فائل فوٹو

یورپ کے لئے یہ ایک نیا معاملہ ہے لیکن جوہری معاہدے کے بارے میں اس کا موقف  یہ ہے کہ یہ ایک اچھا معاہدہ ہے اور اس پر عمل ہونا چاہیئے اور کوئی ایسا کام نہیں کیا جانا چاہیئے جس سے یہ معاہدہ خطرے میں پڑ جائے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اپنی ایک گزشتہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کو ایران کی ہزاروں ایسی خفیہ دستاویزات ملی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کررہا تھا۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں میزبان قمر عباس جعفری نے جوہری سائنس دان ڈاکٹر ایچ نیئر، سیاسی تجزیہ کاروں مسعود ابدالی اور منظر قریشی سے گفتگو کی۔

ڈاکٹر نیئر کا کہنا تھا کہ ایران نے اس وقت جب یہ معاملات چل رہے تھے یہ کہہ کر اپنے عوام کو بھی دھوکہ دیا کہ وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا ، جبکہ ان کے کاغذات یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ ایٹم بم بنانے کی تیاری کررہے تھے۔ ڈاکٹر نیئر نے کہا کہ دوسری جانب بین الاقوامی سائنس دان ،جنہوں نے وہاں جا کر تفتیش اور تحقیق کی اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ ایران کی جانب سے اس وقت نہ ایسی صلاحیت نہ ہی ایسی کوئی کوشش سامنے آئی جس سے معلوم ہو کہ وہ بم بنا رہے تھے ۔

خود صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکی عہدیداروں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جوہری معاہدہ ہونے کے بعد سے ایران نے اس کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔

مسعود ابدالی نے اس ضمن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دراصل جوہری معاہدے اور میزائلوں کے معاملے کو گڈ مڈ کردیا گیا ہے جبکہ یہ دو الگ الگ معاملات ہیں۔ ایران نے میزائل ٹیکنالوجی کی اپنے پاس موجودگی سے کبھی انکار نہیں کیا ہے اور فرانسیسی صدر نے بھی یہاں واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے یہی کہا ہے کہ معاہدے میں سقم ہیں اور ہمیں جوہری معاہدے کو چھیڑے بغیر ایران سے رابطوں میں رہناچاہئے۔

منظر قریشی نے یورپ کے رد عمل کے حوالے سے کہا کہ یورپ کے لئے یہ ایک نیا معاملہ ہے لیکن جوہری معاہدے کے بارے میں اس کا موقف یہ ہے کہ یہ ایک اچھا معاہدہ ہے اور اس پر عمل ہونا چاہیئے اور کوئی ایسا کام نہیں کیا جانا چاہیئے جس سے یہ معاہدہ خطرے میں پڑ جائے۔

ڈاکٹر نیئر نے مزید کہا کہ سب جانتے ہیں کہ ایران کے پاس یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس کے بعد یورینیم کی افزودگی تین فیصد سے نوے فیصد تک لے جانا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ یہ افزودگی کی وہ سطح ہے جس پر وہ بم بنا سکتا ہے۔ اگر اسے مجبور کیا گیا تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کے بموں پر لوگوں کی نظر نہیں ہے۔ وہ بم بنائے گا تو دنیا کی نظریں بقول ان کے اسرائیل کے بموں تک بھی جائیں گی۔

مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:44 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG