رسائی کے لنکس

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں آیت اللہ علی خامنائی نے کہا ہے کہ ’’امریکی صدر کا ہمارے لوگوں کے خلاف بیان ایران کے خلاف امریکی دشمنی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے‘‘

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی نے کہا ہے کہ ’’امریکہ ایران کا دشمن نمبر ایک ہے‘‘؛ اور جوہری معاہدے کے حوالے سے، ’’ایران کبھی بھی امریکہ کے دباؤ میں نہیں آئے گا‘‘۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں آیت اللہ علی خامنائی نے کہا کہ، ’’امریکی صدر کا ہمارے لوگوں کے خلاف بیان ایران کے خلاف امریکی دشمنی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے‘‘۔

امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ایران جوہری معاہدے کی مکمل طور پر پابندی کر رہا ہے۔

یہ معاہدہ 2015 میں طے کیا گیا تھا۔ اُس کے بعد سے آیت اللہ خامنائی مسلسل امریکہ کو ہدفِ تنقید بناتے آئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس جوہری معاہدے کے باوجود 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کی کیفیت ختم نہیں ہوگی۔

اس اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے سے اُس وقت سفارتی تعلقات منقطع کر لئے تھے جب سخت مؤقف رکھنے والے طلبا نے 52 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ ایران تہران میں واقع امریکی سفارتخانے پر قبضے کی سالگرہ ہفتے کے روز منا رہا ہے۔

سابق صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری سمجھوتے کو موجودہ صدر ٹرمپ نے ’’بدترین سمجھوتہ‘‘ قرار دیا ہے اور ایران کے خلاف اُس کے جوہری اور میزائیل پروگراموں کے حوالے سے انتہائی سخت مؤقف اپنایا ہے۔ اُنہوں نے ایران پر شدید پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کو لیجانے والے میزائیلوں کی تیاری سے باز رہے۔ ایران نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ ایران کے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں اور اُس کا میزائیل پروگرام خالصتاً دفاعی مقاصد کیلئے ہے۔

اس معاہدے کے دیگر دستخط کنندہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یورپین یونین نے کہا ہے کہ امریکہ یک طرفہ طور پر ایسے بین الاقوامی معاہدوں کو ختم نہیں کر سکتا جس کی توثیق اقوام متحدہ نے کی ہو۔

ایرانی حکام نے متعدد بار یہ کہا ہے کہ ایران اُس وقت تک جوہری معاہدے کی پابندی کرتا رہے گا جب تک اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک اس کی پاسداری کرتے رہیں گے۔ تاہم، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے کو منسوخ کرنے کے نتائج خطرناک ہوں گے۔

آیت اللہ خامنائی کے خطاب کے دوران، طلبا ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے رہے جس کے جواب میں، خامنائی نے کہا کہ ہم جوہری معاہدے کی رو سے امریکی دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

اُنہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات کے نتائج کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ خامنائی نے کہا کہ ’’ایران کی طرف سے کسی پسپائی کے نتیجے میں امریکہ کے ظلم و ستم میں مزید شدت پیدا ہوگی۔ لہذا، ایران کیلئے مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ ایران پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، جبکہ ایران اس سے انکار کرتا ہے۔ ایران امریکہ پر الزام لگاتا ہے کہ امریکہ اور اُس کے علاقائی اتحادیوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ہی داعش جیسی تنظیمیں طاقت پکڑ رہی ہیں۔

عام تاثر یہ ہے کہ شیعہ اکثریت والے ملک ایران اور امریکہ کے اتحادی سنی ملک سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ایک ’پراکسی جنگ‘ میں ملوث ہیں اور یہ دونوں ملک شام، یمن، عراق اور لبنان میں اپنے اپنے فریق کی حمایت کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG