رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: 2017 میں احتجاج منظم کرنے والے صحافی کو موت کی سزا


روح اللہ زم گزشتہ برس تک جلا وطن تھے تاہم 2019 میں وہ غیر واضح حالات میں ایران واپس آئے تھے۔ ملک واپس آنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو)

ایران کی ایک عدالت نے اس صحافی کو موت کی سزا سنا دی ہے جنہوں نے 2017 میں ملک میں معاشی اصلاحات کے لیے احتجاج میں آن لائن خبریں دینے کے ساتھ ساتھ مظاہرے منظم کرنے کے لیے 'ٹیلی گرام' کا استعمال کیا تھا۔

روح اللہ زم گزشتہ برس تک جلا وطن تھے تاہم 2019 میں وہ غیر واضح حالات میں ایران واپس آئے تھے۔ ملک واپس آنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

عدالت کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے منگل کو روح اللہ زم کی سزا کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ روح اللہ زم ایک ویب سائٹ 'آمد نیوز' چلاتے تھے۔ اس ویب سائٹ پر ایران کے حکام کے بارے میں مختلف ویڈیوز اور خبریں شائع کی جاتی تھیں۔

روح اللہ زم جلا وطنی کے دوران فرانس کے شہر پیرس میں رہے۔ بعد ازاں وہ ایران واپس گئے۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کیا وجوہات تھیں کہ انہوں نے ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ ایرانی حکام نے اکتوبر 2019 میں ان کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

ایران: معاشی مسائل پر جاری احتجاج میں 20 افراد ہلاک
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:55 0:00

گرفتاری کے کچھ عرصے بعد روح اللہ زم کا ایک ویڈیو بیان ٹی وی پر نشر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے اپنی سابقہ سرگرمیوں پر معافی مانگی تھی۔

روح اللہ زم مشہور میسجنگ ایپ 'ٹیلی گرام' پر ایک چینل چلاتے تھے۔ 2017 میں اس چینل کے ذریعے شہریوں کو احتجاج کے مقامات سے آگاہ کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس پر احتجاج کی ویڈیوز بھی شیئر کی جاتی تھیں۔ اس وقت ان کو اس ٹیلی گرام چینل کی وجہ سے کافی شہرت حاصل ہوئی تھی۔ لیکن ایرانی حکام اس احتجاج سے نالاں تھے۔

ایران کی حکومت کی جانب سے شکایت پر ٹیلی گرام نے ان کا چینل بند کر دیا تھا۔ ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس ٹیلی گرام چینل کے ذریعے شہریوں کو پیٹرول بم بنانے کا طریقہ سکھایا جا رہا تھا۔

بعد ازاں روح اللہ زم کا چینل مختلف ناموں کے ساتھ چلتا رہا۔

روح اللہ زم شیعہ مذہبی رہنما محمد علی زم کے صاحب زادے ہیں۔ محمد علی زم نے 80 کی دہائی کے آغاز میں ایرانی حکومت میں بھی خدمات انجام دی تھیں۔

ایران میں صرف دس فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی میسر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:42 0:00

محمد علی زم نے 2017 میں عوام کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے روح اللہ زم کی 'آمد نیوز' کی رپورٹنگ اور ان کے ٹیلی گرام چینل پر بھیجے جانے والے پیغامات کی حمایت نہیں کر سکتے۔

روح اللہ زم کی سزا کے حوالے سے عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے کہا ہے کہ روح اللہ زم کو فساد فی الارض، جاسوسی اور ایران کی حکومت کو گرانے کی سازش میں شامل ہونے کے الزامات کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ روح اللہ زم کو عدالت نے سزا کب سنائی ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں 2017 کی احتجاجی تحریک کے دوران 25 افراد ہلاک جب کہ ایک ہزار کے لگ بھگ افراد گرفتار ہوئے تھے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے ااس احتجاج میں مظاہرین کی گرفتاری اور ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

جنوری 2018 میں ایران کی حکومت نے ملک میں پیغام رسانی کی ایپلی کیشن 'ٹیلی گرام' کے ساتھ ساتھ 'انسٹاگرام' پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

حکومت مخالف مظاہروں میں بعض علاقوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے تھے۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے، خامنائی کے خلاف نعرے
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:00 0:00

ایران میں ایک ہفتے تک حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے بعد حکومت کے حق میں بھی ریلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے بھی ایک ٹوئٹ میں ایران کے عوام کی حمایت کا وعدہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے حکومت کے خلاف اٹھنے والے لوگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مناسب وقت پر امریکہ کی جانب سے ان کو بہت مدد ملے گی۔

ایران میں احتجاج میں ہلاکتوں اور گرفتاریوں پر جنوری 2018 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا تھا۔ یہ اجلاس امریکہ کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا جب کہ روس نے اس اجلاس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ احتجاجی مظاہرے ایران کا داخلی معاملہ ہے۔

سلامتی کونسل میں امریکی سفیر ہیلی نے کہا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا احتجاجی مظاہروں پر توجہ دے۔

بعد ازاں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کی تو وہ اس میں بُری طرح ناکام ہوگا۔

انہوں نے پہلی بار یہ بات تسلیم کی کہ ممکن ہے کہ عوام کو شکایات اور تکالیف ہوں۔ ہمیں انہیں ضرور سننا چاہیے۔ ہمیں عوام کو سننا ہوگا۔ ہمیں اپنے وسائل کے لحاظ سے ان کا مداوا بھی کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ ایران کی حکومت نے احتجاج ختم ہونے کے بعد تسلیم کیا تھا کہ مظاہروں میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ 400 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

تاہم ایران کے اصلاح پسند رکن پارلیمنٹ محمود صادقی نے کہا تھا کہ مظاہروں کے دوران لگ بھگ 3700 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ایرانی عہدیداروں نے اس وقت الزام لگایا تھا کہ اُن کے ملک میں بدامنی میں مبینہ طور پر امریکہ، برطانیہ اور دیگر بیرونی طاقتوں کا ہاتھ تھا۔ البتہ امریکہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG