رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ ایران میں بدامنی پھیلانے میں ناکام ہوگا: خامنہ ای


فائل فوٹو

خامنائی نے پہلی بار یہ بات تسلیم کی کہ ممکن ہے کہ عوام کو شکایتیں اور تکالیف ہوں۔ یہ کہتے ہوئے کہ ’’ہمیں ضرور سننا چاہیئے۔ ہمیں سننا ہوگا۔ ہمیں اپنے وسائل کے لحاظ سے ان کا مداوا کرنا ہوگا‘‘

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے منگل کے روز کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی معاملات میں مداخلت کی کوشش کی تو وہ اس میں ’’بُری طرح سے ناکام‘‘ ہوگا۔

اس سے قبل، اسی ہفتے، ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا تھا کہ ملک میں حالیہ بد امنی امریکہ کی ’’دخل اندازی‘‘ کی حکمتِ عملی کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، جسے اُنھوں نے ملک کی سلامتی کا سنگین چیلنج قرار دیا۔

ظریف نے الزام لگایا کہ بیرونی طاقتوں نے، جن میں اُن کا علاقائی متحارب ملک سعودی عرب شامل ہے، بے چینی بھڑکائی ہے۔ اپنے تازہ ترین خطاب میں خامنائی نے اس بات کو دہرایا جس کے بارے میں چند ایرانی اہل کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ احتجاجی مظاہرے نہ صرف منظم تھے بلکہ اِن کے لیے بیرونِ ملک سے بڑی رقوم فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

خامنہ ای نے پہلی بار یہ بات تسلیم کی کہ ممکن ہے کہ عوام کو شکایتیں اور تکالیف ہوں۔ یہ کہتے ہوئے کہ ’’ہمیں ضرور سننا چاہیئے۔ ہمیں سننا ہوگا۔ ہمیں اپنے وسائل کے لحاظ سے ان کا مداوا کرنا ہوگا‘‘۔ تاہم، اُنھوں نے بد امنی بھڑکانے کا ذمہ دار خاص طور پر بیرونی سازشوں کو قرار دیا۔

نو جنوری کے ایک ٹوئیٹ میں اُنھوں نے کہا کہ ’’قوم نے ایک بار پھر، امریکہ، برطانیہ اور دیگر جو بیرون ملک سے اسلامی جمہوریہ ایران کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُنھیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ ناکام ہوچکے ہیں؛ اور آپ آئندہ بھی ناکام ہوں گے‘‘۔

امریکہ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اس احتجاج کی پشت پناہی امریکہ یا امریکی انٹیلی جنس ادارے کر رہے ہیں۔

’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے، سی آئی اے کی سربراہ، مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ یہ ایران کے اپنے داخلی مسائل ہیں، ایسا نہیں کہ احتجاج کی پشت پناہی امریکہ کر رہا ہے۔

پومپیو کے بقول، ’’ایران کی معاشی صورت حال بہتر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں‘‘۔

تعریف کرتے ہوئے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اِس تحریک میں شامل ایرانی مظاہرین کے حوصلے کی داد دی۔

اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی، موساد کے سربراہ، یوسی کوہن نے منگل کے روز یروشلم میں وزارت مالیات کے کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے خامنائی کے الزامات پر کوئی رد عمل ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران میں ہونے والے حالیہ احتجاج کے نتیجے میں نہیں لگتا کہ حکومت کا تختہ الٹ جائے گا۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’ہماری آنکھیں اور کان لگے ہوئے ہیں، جس میں ایران بھی شامل ہے‘‘۔

اپنے خطاب میں خامنائی نے سعودی عرب کا نام لیے بغیر کہا کہ احتجاجی مظاہروں میں اُس کا کردار ہے۔ وہ پیسے کا ذکر کر رہے تھے، جو، بقول اُن کے، باہر سے مل رہا ہے، ’’جس میں خلیج فارس کا قریبی امیر ترین ملک ملوث ہے‘‘۔ سعودی عرب نے ان دعووں پر ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG