رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری سمجھوتے سے امریکی علیحدگی کے بعد ایران کا یورینیم افزودگی میں اضافے کا منصوبہ


ایٹمی توانائی کے ادارے کے ڈائریکٹر علی اکبر صالحی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کردہ اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ ایران نطنز شہر کی تنصیب میں جدید سینٹری فیوجز لگانے کے لیے زیریں ڈھانچہ تشکیل دے رہا ہے

ایرانی جوہری پروگرام کے سربراہ نے منگل کے روز کہا ہے کہ ملک نے یورینئیم کی افزودگی کی صلاحیت میں اضافے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس بات سے یورپی ملکوں پر دباؤ بڑھے گا جو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جو امریکہ کے نکل جانے کے بعد کمزور ہو چکا ہے۔

ایٹمی توانائی کے ادارے کے ڈائریکٹر علی اکبر صالحی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کردہ اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ ایران نطنز شہر کی تنصیب میں جدید سینٹری فیوجز لگانے کے لیے زیریں ڈھانچہ تشکیل دے رہا ہے۔

صالحی نے کہا کہ ’’جو کچھ ہم کر رہے ہیں، اس سے (2015 کے جوہری) معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ پیر کے روز ایران نے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس کا تعلق ’’کچھ سرگرمیوں کے آغاز سے متعلق ہے‘‘۔

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کے روز کہا ہے کہ اُنھوں نے ہی اس تیاری کے احکامات جاری کیے ہیں، تاکہ سمجھوتا ختم ہونے کی صورت میں یورینئیم کی افزودگی کی صلاحیت کو بڑھاوا دیا جا سکے۔

صالحی نے کہا کہ ایران کو نقص زدہ جوہری معاہدہ قبول نہ ہوگا اور درپیش نئی تعزیرات پر عمل پیرا ہونا ممکن نہیں۔ اُنھوں نے ایران کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ اگر سمجھوتا ختم ہوتا ہے تو ایران اپنی جوہری سرگرمی میں فوری اضافہ کرنے پر تیار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG