رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے خلاف فوجی اتحاد بنایا جائے: اسرائیل


اسرائیلی وزیرِ اعظم جرمن چانسلر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ اگر مغربی ملکوں نے اسرائیل کے خلاف کوئی فوجی اتحاد تشکیل دیا تو عرب ممالک اور خود اسرائیل ضرور اس کا حصہ ہوں گے۔

اسرائیل نے مغربی ملکوں سے کہا ہے کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ کیا تو انہیں اس کے خلاف فوجی اتحاد تشکیل دینا چاہیے۔

اسرائیل کے وزیرِ برائے انٹیلی جنس امور یزرائیل کیٹز نے یہ تجویز ایسے وقت دی ہے جب وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو یورپی ملکوں کے دورے کے پہلے مرحلے میں جرمنی میں ہیں جہاں ان کی بات چیت کے ایجنڈے میں ایران کی خطے میں مداخلت اور اس کا جوہری پروگرام سرِ فہرست ہیں۔

منگل کو یروشلم میں ایک ریڈیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے خود کو عالمی برداری کے سامنے سرنڈر نہ کیا اور یورینیم کی افزودگی کی شرح دوبارہ بڑھانے کی کوشش کی تو اسے صدرِ امریکہ اور پورے مغربی اتحاد کی جانب سے صاف صاف پیغام ملنا چاہیے۔

یزرائیل کیٹز نے کہا کہ اگر مغربی ملکوں نے اسرائیل کے خلاف کوئی فوجی اتحاد تشکیل دیا تو عرب ممالک اور خود اسرائیل ضرور اس کا حصہ ہوں گے۔

اسرائیلی وزیر کے اس بیان سے ایک روز قبل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے یورپی رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر اقتصادی پابندیاں بحال کی گئیں تو وہ یہ بھول جائیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود رکھے گا۔

خامنہ ای نے اپنے بیان میں اسرائیل کو خطے کے لیے ایک ایسا ناسور بھی قرار دیا تھا جسے ان کے بقول جلد سے جلد ختم کرنا چاہیے۔

پیر کو برلن میں جرمن چانسلر آنگیلا مرخیل سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نسل کشی کے اپنے منصوبوں پر عمل کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا بہت ضروری ہے اور وہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ان کا ملک ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم منگل کو پیرس میں فرانس کے صدر ایمانوئیل میخواں سے ملاقات کریں گے جس کے بعد بدھ کو لندن میں ان کی برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے سے ملاقات طے ہے۔

یورپی رہنما ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرا رکھنے کے خواہش مند ہیں جس کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کردی تھیں اور عالمی معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دیدی تھی۔

لیکن امریکی صدر گزشتہ ماہ اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کرچکے ہیں جس کے بعد ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو وہ بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG