رسائی کے لنکس

عراق: فوجی اڈے پر راکٹ حملے، اتحادی فوج کے پانچ اہل کار زخمی


فائل

بغداد میں ہفتے کو فوجی اڈے پر راکٹ حملے کیے گئے جہاں امریکی اور اتحادی افواج کی رہائش گاہ واقع ہے۔ عراقی سیکیورٹی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ اس سے چند ہی روز قبل اسی طرح کے حملے میں تین فوجی اہل کار ہلاک ہوئے، جن میں دو امریکی شامل ہیں۔

عراقی فوج کے بیان میں امریکی قیادت کے اتحاد کے حوالے سے بتاہا گیا ہے کہ 107 ملی میٹر دہانے والے کم از کم 25 راکٹ 11 بجے دوپہر تاجی کیمپ پر گرے۔ ان میں سے کچھ اس مقام پر گرے جہاں اتحادی افواج تعینات ہیں جب کہ دیگر فضائی دفاع کے یونٹوں پر گرے۔

امریکی قیادت والی اتحادی فوج کے ترجمان، مائلز کیجنز کے مطابق، تاجی کیمپ پر حملے کے نتیجے میں اتحادی فوج کے پانچ اہل کار جب کہ دو عراقی فوجی زخمی ہوئے۔ فوری طور پر یہ نہیں بتایا گیا آیا اتحادی فوج کے زخمی اہل کاروں کا تعلق کن ملکوں سے ہے۔

عراقی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''وحشیانہ جارحیت'' کے نتیجے میں فضائی فوج کے کئی اہل کار زخمی ہوئے، جن میں سے چند کی حالت تشویش ناک ہے۔ لیکن ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

بعد ازاں، عراقی افواج نے اس علاقے کی شناخت کی جہاں کے سات مقامات سے یہ راکٹ داغے گئے تھے، جو شمالی بغداد کا ابو اعظم کا علاقہ ہے۔ وہاں سے مزید 24 میزائل برآمد کیے گئے جو داغے جانے کے لیے تیار تھے۔

یہ حملہ غیر معمولی تھا چونکہ یہ دن کے وقت کیا گیا۔ فوجی اڈوں پر گزشتہ حملے جہاں امریکی فوج رہائش پذیر ہے رات کے اندھیرے میں کیے جاتے رہے ہیں۔

اس سے قبل تاجی کیمپ پر راکٹ حملہ بدھ کو کیا گیا تھا، جس میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوا تھا۔ اس کے بعد جمعے کو امریکی فضائیہ نے کتائب حزب اللہ کے اسلحے کی تنصیبات پر حملے کیے گئے، یہ وہ ملیشیا گروپ ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ ایران اس کی سرپرستی کرتا ہے۔

تاہم، عراقی فوج کا کہنا ہے کہ ان فضائی حملوں میں سیکیورٹی فورس کے پانچ ارکان اور ایک شہری ہلاک جب کہ معروف متحرک فورسز کے پانچ عسکریت پسند زخمی ہوئے، جو ملیشیائوں کی متحدہ تنظیم ہے، جس میں ایرانی پشت پناہی والے گروہ بھی شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG