رسائی کے لنکس

logo-print

کیا امریکہ اور ایران میں براہ راست جنگ کا خطرہ موجود ہے؟


فائل

ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی RQ-4A گلوبل ہاک جاسوس ڈرون مار گرایا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار امریکی فوجی تعینات کر رہا ہے۔ ان اقدامات سے اس تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر، رابرٹ آئن ہورن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ یہ اقدامات تشویش کا باعث ہیں۔ تاہم، اس بات کا امکان کم ہے کہ دونوں فریقین کشیدگی کو مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

رابرٹ آئن ہورن کے مطابق، اس کے باوجود، اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ غیر ارادتاً کوئی ایسی صورت سامنے آ جائے جس سے یہ کشیدگی باقاعدہ فوجی جھڑپ کی شکل اختیار کر جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی طرف سے کسی بھی مجوزہ کارروائی کے نتیجے میں اگر کسی امریکی فوجی کی ہلاکت ہوئی تو ایران کو اس کا خمیازہ ادا کرنا پڑے گا۔

آئن ہورن کا کہنا تھا کہ اگر عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا ایران کو اطلاع دیے بغیر یا اس کی رضامندی حاصل کیے بغیر کوئی ایسا حملہ کر دیتی ہے جس میں امریکی فوج کو جانی نقصان ہوتا ہے تو امریکہ یقینی طور پر ایران پر براہ راست حملہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ یوں، براہ راست جنگ کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ایک اور سینئر فیلو، ہادی امر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں فی الوقت صدر ٹرمپ ایران پر براہ راست حملہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن، ان کی انتظامیہ میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو ایران پر براہ راست حملے پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کا حقیقی خطرہ موجود ہے یا نہیں۔ تاہم، ہمیں اس بارے میں تشویش یقینی طور پر ہونی چاہیے۔

روس اور چین کا کردار

اس سوال کے جواب میں کہ کسی ممکنہ براہ راست جنگ میں روس اور چین کا کردار کیا ہوگا، رابرٹ ائن ہورن کا کہنا تھا کہ روس اور چین کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کے امکان کو روکیں۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو اور سابق صدر اوباما کی انتظامیہ میں اہم منصب پر فائز رہنے والے سفارتکار، ہادی امر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے آئن ہورن سے اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور چین دونوں مشرق وسطیٰ میں استحکام چاہتے ہیں۔ لہذا، یہ دونوں ملک کوشش کریں گے کہ امریکہ اور ایران کو کسی ممکنہ انتہائی اقدام سے روکیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ روس اور امریکہ کی یہ کوشش بھی ہوگی کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی آزادانہ ترسیل جاری رہے۔

پراکسی جنگ

رابرٹ آئن ہورن کے مطابق، اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کے بجائے مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگ شدت اختیار کر جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یمن میں امریکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اقدامات کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ ہوثیوں کو ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی ہی صورت حال عراق جیسے ممالک میں بھی رونما ہو سکتی ہے۔

تاہم، ہادی امر کا کہنا تھا کہ اگر اس بات پر یقین کر لیا جائے کہ آئل ٹینکرز پر ہونے والا حالیہ حملہ ایران نے کیا تھا تو اس سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری پراکسی جنگ میں مزید شدت پیدا ہو سکتی ہے۔

امریکہ ایران کشیدگی کے پاکستان پر ممکنہ اثرات

رابرٹ آئن ہورن کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں اس کشیدگی کے پاکستان پر فوری براہ راست اثرات پڑنے کا امکان نہیں ہے۔

ہادی امر نے کہا کہ پاکستان سمیت وہ ملک جو روایتی طور پر ایران سے تیل درآمد کرتے تھے یا اس میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ امریکی پابندیوں کے باعث اس سلسلے میں دباؤ محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ کشیدگی مزید شدت اختیار کرنے کے باعث ان کیلئے ایسا کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست جنگ چھڑ گئی تو پاکستان کو ایران سے لاکھوں مہاجرین کی آمد کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے جہاں پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے وہاں افغانستان میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی مثبت کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG