رسائی کے لنکس

حکومت دھرنا خوش اسلوبی سے ختم کرانا چاہتی ہے: احسن اقبال


حکومتی راہنماؤں اور دھرنا قائدین کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرت ۔ 18 نومبر 2017

اسلام آباد میں جاری مذہبی جماعت کا دھرنا جاری ہے اور حکومت کے ساتھ مذہبی جماعت کے قائدین کے اب تک مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں جو اب تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکے۔

اسلام آباد میں راجہ ظفرالحق کی رہائش گاہ پر ہونے والے ان مذاکرات میں راول پنڈی اسلام آباد کے مختلف علما و مشائخ بھی بطور ثالث حصہ لے رہے ہیں۔

رات گئے مذاکرات کا دوسرا دور ختم ہونے کے بعد وزیر داخلہ احسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ دھرنا مذاکرات کے ذریعے ختم کرایا جائے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دھرنے کی وجہ سے لاکھوں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ آج بھی راستے بند ہونے کے سبب ایک ہلاکت ہوئی اور اس وجہ سے ہم پر دھرنے کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن حکومت اس وقت ملک میں کشیدگی یا تناؤ نہیں چاہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی دھرنا نہیں اور نہ ہی یہ کوئی معمولی صورتحال ہے۔ اس میں مذہبی جذبات شامل ہیں اس لیے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے تمام تر کوششیں کررہے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے سنجیدگی کے ساتھ کوشش کی ہے کہ دھرنے والے ملک کے حالات اور معاملات کی سنگینی سمجھیں۔ اس ملک کو بہت سے بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ ایسے میں ہم اندرونی تصادم نہیں کرسکتے کیونکہ ملک کشمکش کا متحمل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ آج علما کے وفد سے مذاکرات ہوئے جو مثبت ثابت ہوئے اور کل تک ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ آج مذاکرات میں بھی یہی بات کی کہ ختم نبوت والے قانون کو قیامت کے تک کے لیے نافذ کردیا ہے لہذا یہ حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے اس پر حکومت پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے جشن منانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرقانون سےاستعفے کا مطالبہ ٹھوس ثبوت اور دلیل تک ممکن نہیں ہے کیونکہ اب تک وزیرقانون پر جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ جب کہ وزیرقانون نے ختم نبوت پر ایمان لانے سے متعلق بیان بھی جاری کیا ہے۔

عدالت کےحکم کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ ہم عدالت سے اپیل کریں گے کہ ہمیں ایک دو روز کا وقت دیا جائے۔ ابھی مذاکرات جاری ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ایک دو روز میں خوش خبری ملے گی۔

دوسری جانب دھرنا پر موجود قائدین نے اپنے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد کی برطرفی یا استعفی تک کسی صورت دھرنا نہیں اٹھایا جائے گا۔

اسلام آباد اور راول پنڈی کے جنگشن فیض آباد پر ہونے والے اس دھرنا کو تیرہ دن ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے لاکھوں لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

اسلام آباد ہوئی کورٹ نے ہفتہ کے دن صبح دس بجے تک ہر حال میں دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وزیرداخلہ کے حکم پر اس ڈیڈ لائن میں 24 گھنٹے کا اضافہ کردیا گیا تھا اور اب مذاکراتی عمل جاری ہونے کے بعد وزیر داخلہ نے ایک سے دو روز کی نوید سنائی ہے۔

اتوار کا دن ہونے کے باعث عدالتیں بند ہونگی جبکہ سوموار کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کیس کے دوبارہ سماعت بھی ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG