رسائی کے لنکس

logo-print

دھرنا ختم کرنے سے انکار، آپریشن کی تیاریاں


وزیر داخلہ اقبال احسن اسلام آباد میں دھرنے سے متعلق پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ 17 نومبر 2017

وفاقی وزیرداخلہ میں مذہبی جماعت کو شہری انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی ہے اور مذہبی جماعت کے قائدین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

آپریشن سے بچنے کے لیے کوششوں کے سلسلہ میں انتظامیہ اور مذہبی جماعت کے درمیان مذاكرات کا سلسلہ رات دیر گئے تک جاری رہا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی مہلت ہفتہ کی صبح دس بجے تک ہے۔

لیکن مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر داخلہ نے انتظامیہ کو مزید 24 گھنٹے تک مہلت دینے کا کہا ہے۔

قبل ازیں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعت کے دھرنے کے شرکا ملک اور دنیا کو غلط پیغام دے رہے ہیں۔ اگر دھرنا ختم نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراً عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ قوم کو اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے اعتماد میں لینا چاہتا ہوں۔ مذہبی جماعت کے دھرنے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کی روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکا نے پنجاب حکام کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اسلام آباد میں حالات خراب نہیں ہوں گے اور ایک دو روز میں احتجاج ریکارڈ کرا کر واپس چلے جائیں گے۔

احسن اقبال کا کہناتھا کہ عوام کو محصور کرنا رسول اکرم کی تعليمات کے منافی ہے۔ قوم میں نفرت پیدا کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور مذہبی جماعت کے دھرنے کے شرکا ملک اور دنیا کو غلط پیغام دے رہے ہیں۔ جبکہ دھرنے کے باعث ایک ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمرنا ختم نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراً عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ ختم نبوت پر یقین نہ رکھے ۔ جب کہ پارلیمنٹ از خود ختم نبوت کی محافظ ہے۔ جس ترمیم پر تنازع اٹھا، وہ وزیر قانون یا حکومت نے نہیں کی، تمام جماعتوں نے کی تھی۔ زاہد حامد نے حلف نامے کی بحالی کی سب سے پہلے حمایت کی۔ اب حلف نامے کو اصل شکل میں بحال کردیا گیا ہے۔ حلف نامے کی اصل شکل میں بحالی کے بعد تنازع کھڑا کرنا بے بنیاد ہے۔

دوسری جانب دھرنے والے علاقے فیض آباد میں صورت حال کشیدہ ہے۔ انتظامیہ نے اسلام آباد کے داخلی راستوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ فیض آباد اور ملحقہ سیکٹر آئی ایٹ کے مکینوں کو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلنے اور لوگوں کو کل دکانیں نہ کھولنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دھرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے حکم کی تعميل کے لئے راول پنڈی اور گردونواح کی پولیس کو بھی بلا لیا ہے، لیکن ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے وہ کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کے لیے آخری وقت تک مذاكرات کے ذریعے دھرنا کا مقام خالی كروانا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG