رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی وزیر اعظم ایران نیوکلیئر ڈیل کے متبادل کے لیے کوشاں


برطانوی وزیر اعظم تھریسامے اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کا وزیر اعظم آف کے دروازے پر استقبال کر رہی ہیں۔ 6 جون 2018

میکرون اور دوسری یورپی طاقتیں موجودہ معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں لیکن وہ اس مسئلے پر ایران کے ساتھ کسی الگ معاہدے کے تحت نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو یورپی راہنماؤں کو ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدے کے کسی متبادل پر آمادہ کرنے کے لیے یورپ کے اپنے تین روزہ دورے کے آخری مرحلے میں بدھ کے روز انہوں نے لندن میں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے سے ملاقات کی۔

نتن یاہو نے منگل کے روز صدر ایمانوئل میکرون سے مذاكرات کے لیے فرانس رکے اور مشترکہ جامع لائحہ عمل یعنی JCPOA کی اپنی مخالفت کا اعادہ کیا جو ایران کے لیے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کےعوض اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرتا ہے ۔اسرائیلی لیڈر نے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار وں کے حصول سے روکنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

میں نے فرانس کو جےسی پی او اے JCPOA مشترکہ لائحہ عمل سے واپس ہونے کو نہیں کہا ہے کیوں کہ میرا خیال ہے کہ یہ لائحہ عمل اقتصادی قوتوں کے دباؤ سے تحليل ہو جائے گا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت دو إمكانات ہیں ، یا تو ایران اس دباؤ کے تحت اپنی جوہری سرگرمیاں یک طرفہ طور پر ختم کر دے ، یا کسی بہتر معاہدے کے لیے مستقبل میں کوئی گفت وشنید ہو۔

میکرون اور دوسری یورپی طاقتیں موجودہ معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں لیکن وہ اس مسئلے پر ایران کے ساتھ کسی الگ معاہدے کے تحت نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

فرانسیسی صدر ایما نوئل میکرون نے کہا کہ جے سی پی او اے کافی نہیں ہے اور میں اس سے بالکل اتفاق کرتا ہوں، لیکن پھر بھی، یہ اس سے بہتر ہے جو ہم اس سے پہلے رکھتے تھے اور اسرائیلی انٹیلی جینس سروسز نے اسے محض بہت زیادہ اچھا ظاہر کیا ہے ۔ اس لیے میں اس سے یہ مراد لیتا ہوں کہ ملکوں کے درمیان باہمی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور میں ہر ایک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ صورت حال کو مستحکم کر ے اور اس میں ایسا کوئی اضافہ نہ کرے جو صرف اور صرف تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جوہری معاہدے سے الگ ہو گئے ہیں لیکن ایران نے معاہدے کے دوسرے دستخط کنندگان سے اسے بر قرار رکھنے کے لیے کہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG