رسائی کے لنکس

اسرائیلی پولیس اہل کار نے فلسطینی عورت کو گولی مار دی


اکتوبر 2015 سے اب تک مختلف اوقات میں تشدد کے اکا دکا واقعات کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطین کے علاقوں میں کم ازکم 241 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی پولیس کے ایک اہل کار نے بدھ کے روزیروشلم کے قدیم شہر کی دیوار کے باہر ایک فلسطینی عورت کو گولی مار کر ہلاک کردیا، جس کے متعلق اہل کار کا کہنا ہے کہ عورت نے اس پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔

یہ واقعہ دمشق گیٹ پر پیش آیا جو قدیم شہر میں داخلے کا راستہ ہے اور جہاں بھاری پہرہ ہوتا ہے۔ماضی میں بھی اس جگہ تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

پولیس کے ترجمان مکی روزن فیلڈ نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے ایک ایسی صورت حال میں کارروائی کی جب اسے اپنی زندگی کے خطرے کا سامنا تھا اور دہشت گرد عورت کو موقع پر ہی گولی ماری دی گئی۔

پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سامری کا کہناتھا کہ 49 سالہ خاتون پولیس اہل کاروں کے ایک گروپ کی جانب بڑھی ۔ پھر اس نے چاقو نکالا اور انہیں مارنے کی کوشش کی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور خاتون مشرقی یروشلم کی رہائشی تھی ۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ کے دوران مغربی کنارے کے ساتھ قبضہ کیا تھا۔

اکتوبر 2015 سے اب تک مختلف اوقات میں تشدد کے اکا دکا واقعات کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطین کے علاقوں میں کم ازکم 241 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن حالیہ مہینوں میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے کم ازکم 161 ایسے فلسطینیوں کو ہلاک کیا جنہوں نے ان پر چاقوؤں سے حملہ کرنے یا انہیں اپنی گاڑی کے نیچے دے کر کچلنے کی کوشش کی۔ جب کہ باقی ماندہ افراد مظاہروں کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔

تشدد کے آغاز کے بعد سے اس طرح کے واقعات میں دو امریکی سیاح اور 37 اسرائیلی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل ان واقعات کا الزام فلسطینی راہنماؤں پر لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ لوگوں کو تشدد پر اکساتےہیں۔جب کہ فلسطینی اتھارٹی ، جس کے کنٹرول میں مغربی کنارے کا محدود علاقہ ہے، اس الزام کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اکثر واقعات میں اسرائیل نے برائے نام ہتھیار رکھنے والے حملہ آورں کے خلاف طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG