رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان میں صحافیوں کے قاتل قانون کی گرفت میں نہیں آتے'


پاکستان میں صحافیوں کے قتل کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے شہر نیو یارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے) کی رواں سال جاری کی گئی رپورٹ میں پاکستان میں صحافیوں کے قتل کی شفاف تحقیقات نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تنظیم نے پاکستان کو دنیا کے ان 13 ممالک میں شامل کیا ہے جہاں صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جب کہ صحافیوں کے قتل کے بعد ملوث ملزمان قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔

گلوبل امپیونیٹی انڈیکس نامی اس فہرست میں تنازعات کے شکار ملکوں کے علاوہ مستحکم ممالک کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تنظیم کی طرف سے اس موقع پر جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ وہ ممالک ہیں جہاں جرائم پیشہ گروپ، سیاستدان، حکومتی عہدیدار اور دیگر طاقتور عناصر تنقید اور تحقیقاتی صحافت کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے تشدد پر اتر آتے ہیں۔

بیان کے مطابق بدعنوانی، غیر مؤثر ادارے اور ایک جامع تحقیقات کے لیے سیاسی عزم کی کمی ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے صحافیوں کے قتل میں کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیم 'رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز' کے پاکستان میں نمائندے اقبال خٹک کا کہنا ہے کہ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں صحافیوں کے قتل کا معمہ حل کرنا اور انہیں منطقی انجام تک پہنچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کی وجہ سے "وہ لوگ جو صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنا رہے ہیں وہ مضبوط ہو رہے ہیں جب کہ صحافی روزبروز کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ صحافی سیلف سنسر شپ پر مجبور ہیں اور وہ خبر جو ان کی جان لے سکتی ہے اس خبر سے اپنے آپ کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔"

اقبال خٹک نے حکومت سے ایسا موثر قانون وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کے بقول، صحافیوں کے قتل کے مقدمات کی پیروی کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر تعنیات کرنے بھی ضروری ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری ہو یا صحافی اگر کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچتا ہے تو ملزم کو سزا دینے کے لیے قانون موجود ہے۔

انوارالحق کاکڑ کہتے ہیں کہ پاکستان کے فوجداری نظام میں کئی خامیاں ہیں۔ گواہوں کو تحفظ دینے کے علاوہ استغاثہ کی صلاحیت کو بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔

حکومت کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ زبانی جمع خرچ کی بجائے حکومت کو عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سی پے جے کی رپورٹ کے مطابق، صحافیوں کے قتل کے واقعات کے لحاظ سے صومالیہ مسلسل پانچویں سال بھی سرفہرست رہا جہاں گزشتہ 10 سال کے دوران 25 صحافیوں کے قتل کے ذمہ داروں کو تعین نہیں کیا جا سکا۔ فہرست میں شامل دیگر ملکوں میں شام، عراق، جنوبی سوڈان، فلپائن، افغانستان اور روس کے علاوہ بنگلادیش، نائجیریا اور بھارت بھی شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG