رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا: جنرل ملر


چند روز پہلے یہ خبر آئی تھی کہ امریکہ افغانستان میں موجود اپنی افواج میں کمی کرے گا اور سات ہزار فوجیوں کو واپس بلا لے گا۔ لیکن ہفتے کے ر وز وہائٹ ہاوس نے وضاحت کی کہ صدر نے فوجوں کی واپسی کے بارے میں ابھی کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

اس بارے میں 'وائس آف امریکہ' کے پروگرام 'جہاں رنگ' میں دو ممتاز تجزیہ کاروں افغان صحافی اور تجزیہ کار انیس الرحمان اور دفاعی تجزیہ کار (ر) بریگیڈیر عمران ملک نے گفتگو کی۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران پہلے افغانستان سے کچھ امریکی افواج کی واپسی اور پھر اسکی تردید پر رد عمل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انیس الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے جب یہ خبر آئی کہ افغانستان سے 7000 امریکی فوجی نکال لئے جائیں گے تو صورت حال شام کی صورت حال سے مماثل نظر آتی تھی، جہاں سے دو ہزار امریکی فوجی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

لیکن، افغانستان کی صورت حال مختلف ہے اور وہاں متعین امریکی افواج کے کمانڈر، جنرل ملر نے فوری طور پر باگرام اور امریکی سفارت خانے میں کہا کہ انکے پاس اس حوالے سے کوئی خبر نہیں ہے اور یہ کہ افغانستان اور وہاں امریکی افواج کے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا جائے گا اسکی اطلاع انہیں پہلے ملے گی۔

دوسری جانب، اس خبر کے بعد افغان صدر نے بھی ایک کانفرنس بلائی اور کہا کہ اگر امریکی فوج جا رہی ہے تو ہمیں اس پر زیادہ انحصار بھی نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ افغان سیکیورٹی فورسز ملک کی سیکیورٹی سنبھالے ہوئے ہیں۔ اسکے بعد دوسرا بیان آیا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کے حالات ابھی وہاں تک نہیں پہنچے ہیں جو مکمل طور سے افغان سیکیورٹی فورسز کے قابو میں آ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ افغانستان میں پھر وہی پرانا دور لوٹ آئے اور افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ بن جائے۔

بریگیڈیر ملک کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس مرحلے پر افغانستان کے بارے میں امریکہ کی پالیسی واضح نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اسوقت تک واپسی کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے جب تک وہ مہم ایک معقول اختتام کی جانب نہ چلی جائے جو اس نے 17 سال قبل شروع کی تھی۔

تفصیل آڈیو رپورٹ میں:

please wait

No media source currently available

0:00 0:04:26 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG