رسائی کے لنکس

logo-print

جمعیت علماء اسلام کا حکومت مخالف 'آزادی مارچ' سکھر پہنچ گیا


جے یو آئی (ف) کے 'آزادی مارچ' کے شرکا نے اتوار کی شب لاڑکانہ میں قیام کیا۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کا کراچی سے نکلنے والا 'آزادی مارچ' سکھر پہنچ چکا ہے جہاں سے وہ اپنی منزل اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہوگا۔

اتوار کی شب آزادی مارچ کے شرکا کراچی سے سکھر پہنچے جب کہ جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر لاڑکانہ میں قیام کیا۔

پیر کی صبح مولانا فضل الرحمٰن لاڑکانہ سے سکھر بائی پاس پہنچے۔جہاں 'آزادی مارچ' سکھر سے پنجاب روانہ ہونے کی تیاری مکمل تھی۔

اتوار کو کراچی سے نکلنے والے 'آزادی مارچ' کے آغاز میں کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے مقام پر جلسہ منعقد کیا گیا۔ جس سے خطاب میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے استعفے کے مطالبے سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اپنے مارچ کا آغاز کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی سے کیا۔ کشمیریوں کو آزادی کی منزل ملنے تک یہ سفر جاری رکھا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نےکشمیریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے کشمیر کے معاملے پر سودے بازی کی ہے۔

'آزادی مارچ' سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ حکومت نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ لوگوں کی انفرادی زندگی برباد کر دی گئی ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ وہ ہر صورت اسلام آباد مارچ کرکے جائیں گے جس کے لیے عوام بھی ان کے ساتھ ہے۔

کراچی میں 'آزادی مارچ' کے قافلے
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:30 0:00

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم حکمرانوں کے استعفے سے کسی طور دستبردار نہیں ہوں گے وہ جبری اور دھاندلی کی بنیاد پر اقتدار میں آئے۔

جے یو آئی-ف کے سربراہ نے ایک بار پھر کہا کہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے حکومت کو جائز مانتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی جماعت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور اس کے فیصلوں کی روشنی میں ہی دھرنا دیا جائے گا۔

مارچ کے آغاز پر ہونے والے جلسے سے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی، سندھ کے سابق گورنر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سندھ کے صدر شاہی سید اور اپوزیشن کے دیگر جماعتوں کے قائدین نے بھی شرکا سے خطاب کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے شرکا سے انتہائی مختصر خطاب کیا۔ ان کے خطاب کے فوری بعد ہی 'آزادی مارچ' موٹر وے کے ذریعے حیدر آباد کی جانب روانہ ہوا۔

'آزادی مارچ' کراچی سے روانہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:19 0:00

خیال رہے کہ 'آزادی مارچ' کے حوالے سے حکومت اور جے یو آئی سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے تھے۔ حزب اختلاف کی جانب سے مذاکرات میں چار مطالبات رکھے گئے تھے جن میں وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ، فوج کی نگرانی کے بغیر نئے انتخابات ،اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی کے ساتھ آزادی مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کا مطالبہ شامل تھا۔

تاہم گزشتہ روز فریقین میں مذاکرات کامیاب ہونے کا اعلان کیا گیا۔ 'آزادی مارچ' کے سلسلے میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور جمعیت علماء اسلام نے معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے کے مطابق وفاقی حکومت نے جمعیت علماء اسلام کے 'آزادی مارچ' کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ مارچ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک یا بلیو ایریا کے علاقے میں داخل نہیں ہوگا۔ حکومت جلسے یا دھرنے کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

جے یو آئی نے 10 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا آغاز ہو گا جو کہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG