رسائی کے لنکس

پاکستان کے جنوبی ساحلی شہر کراچی میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں انتہا پسند تنظیم انصار الشریعہ کے سربراہ سمیت آٹھ مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سندھ رینجرز کے مطابق رینجرز اور پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر بلدیہ ٹاؤن کے علاقے رئیس گوٹھ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جہاں مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

کارروائی کے دوران رینجرز کے دو اور پولیس کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

دہشت گردوں میں سے پانچ موقع پر ہی ہلاک ہوئے جب کہ تین بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

رینجرز کے مطابق مارے جانے والوں میں انصار الشریعہ کا مبینہ سرغنہ اور متعدد دہشت گرد حملوں کا منصوبہ ساز شہریار عرف ڈاکٹر عبداللہ بھی شامل ہے۔

سندھ رینجرز کے ترجمان کرنل فیصل نے اتوار کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "ان دہشت گردوں کی ہلاکت سے انصار الشریعہ کی کراچی میں دہشت گردی کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی البتہ اس کے چار سے پانچ دہشت گرد ابھی تک روپوش ہیں جن کی تلاش کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے انتھک کوششوں کو سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

انصار الشریعہ نامی تنظیم نسبتاً نیا انتہا پسند گروپ ہے جس کا نام رواں سال کے اوائل میں ہی سامنے آیا اور حکام کے مطابق کراچی میں موجود اس تنظیم کے ارکان کی زیادہ تر تعداد بڑی جامعات کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ یہ تنظیم متعدد دہشت گرد بشمول کراچی میں پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہے۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر کراچی میں سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے کی تحقیقات میں بھی انصار الشریعہ کے ملوث ہونے کا بتایا گیا تھا۔

سلامتی کے امور کے ماہر محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پہلے سے موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو سکیورٹی فورسز نے تقریباً ختم کر دیا ہے لیکن بچ جانے والے عسکریت پسند نئے ناموں سے منظم ہونے کے لیے بھی کوشاں ہیں جن کی سرکوبی کے لیے سکیورٹی آپریشنز کا تسلسل سے جاری رہنا ضروری ہے۔

"اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اگر ان کے نیٹ ورکس نہیں ہیں تو یہ کچھ اور لوگ جس طرح یہ اپنے آپ کو انصار الشریعہ کہتے ہیں، جن کا مائنڈ سیٹ دہشت گردی ہی ہے وہ نئے گروپ کی صورت میں سامنے نہیں آئیں گے۔"

شہریار عرف عبداللہ ہاشمی سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہے۔ اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل تھا۔

اس گروپ کے منظر عام پر آنے کے بعد ان خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا کہ پاکستان کی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوانوں میں انتہا پسندانہ رجحانات پائے جاتے ہیں جو کہ روایتی طور پر موجود دہشت گرد گروپوں سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG