رسائی کے لنکس

عراق: کربلا میں اربعین اجتماع، ہزاروں زائرین کی شرکت


زیارت کو کھولنے کے بعد عراق میں بڑٖے پیمانے پر زائرین کی آمد شروع ہو گئی ہے۔

دنیا کے بیشتر خطوں میں کرونا وائرس پر کسی حد تک قابو پانے کے بعد مذہبی مقامات کھولے جا رہے ہیں اور جمعرات کو عراق کے مقدس شہر کربلا میں زائرین کا اربعین یا نواسہ رسول حضرت امام حسین کے چہلم کا بہت بڑا اجتماع منعقد ہوا۔

کرونا وائرس کی عالمی وبا کربلا کے اس سب سے بڑے سالانہ مذہبی تہوار کو ماند نہ کر سکی اور ہزاروں زائرین نے نواسہ رسول کے روضے پر حاضر ہو کر اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے بھی احتیاطی ضابطوں کے ساتھ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کعبہ اور مسجد نبوی کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

اربعین مارچ کی صدیوں پرانی روایت کو قائم رکھتے ہوئے عراقی عوام بہت بڑی تعداد میں نجف شہر سے پیدل کربلا پہنچی اور نواسہ رسول کے سالانہ چہلم کے مذہبی تہوار میں شرکت کی۔

عراق میں اربعین منانے کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ اربعین یعنی حضرت امام حسین اور ان کے 72 اصحاب کی 61 ھجری (سن 680) میں، آج سے تقریباً 1300 سال قبل دس محرم الحرام کو ہونے والی شہادت کے 40 دن مکمل ہونے پر سوگ منایا جاتا ہے۔

ہر سال لاکھوں عزاداران نجف اشرف میں روضہ حضرت علی سے کربلا کی طرف 80 کلو میٹر کا پیدل سفر کر کے امام حسین کی زیارت کے لیے پہنچتے ہیں۔

کربلا میں اربعین پر لاکھوں زائرین کا آنا معمول ہے تاہم گزشتہ برسوں کے برعکس رواں سال عراقی حکومت نے بیرونِ ممالک سے زائرین کی محدود تعداد کو کربلا آنے کی اجازت دی ہے۔

زائرین کے قافلے کربلا کی جانب رواں دواں ہیں۔
زائرین کے قافلے کربلا کی جانب رواں دواں ہیں۔

عراقی حکومت نے ہر ملک سے صرف 1500 زائرین کے لیے ویزہ جاری کیا تاکہ وہ زیارت امام حسین کے اس سالانہ سب سے بڑے مذہبی تہوار میں شرکت کر سکیں۔

کرونا وائرس نے عراق کو بھی متاثر کیا ہے اور اب تک لگ بھگ چار لاکھ افراد اس وبا میں مبتلا ہو چکے ہیں اور دس ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں۔ جب کہ روزانہ تقریباً پانچ ہزار کے قریب نئے افراد اس عالمی وبا میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ محرم الحرام میں یوم عاشور کے لیے عراق کی حکومت نے غیر ملکیوں اور دیگر شہروں کے باسیوں پر کربلا میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔

پاکستان سے کربلا پہنچنے والی ایک زائرہ رباب بخاری کہتی ہیں کہ ان کے خاندان کے بہت سے دیگر افراد بھی اربعین پر کربلا آنا چاہتے تھے، لیکن اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے محدود ویزوں کے اجرا کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں چہلم سے محض تین روز قبل ویزہ جاری کیا گیا اور وہ خود کو خوش نصیب تصور کرتی ہیں کہ وہ کربلا پہنچ گئی ہیں۔

کرونا وائرس خطرے کے پیش نظر بیرونی ملکوں کو زائرین کو محدود تعداد میں ویزے جاری کیے گئے تھے۔
کرونا وائرس خطرے کے پیش نظر بیرونی ملکوں کو زائرین کو محدود تعداد میں ویزے جاری کیے گئے تھے۔

اربعین مارچ اور محبت و خدمت کی روایت!

کرونا وائرس کے خطرے کے باوجود لاکھوں عراقیوں نے صدیوں پرانی روایت پر عمل کیا اور ملک کے مختلف شہروں بالخصوص نجف اشرف سے کربلا کی جانب پیدل مارچ کیا۔

پیادہ سفر کرنے والے ان افراد کے لیے سڑک کے اطراف میں عارضی قیام گاہیں (خیمے) لگا کر زائرین کو مفت خوراک، ادویات، آرام اور مختلف سہولیات مہیا کی گئیں۔

اگرچہ کرونا وائرس کے خطرے سے بچنے کے لیے اس مارچ میں شریک افراد کے جگہ جگہ ہاتھ دھلوائے جاتے رہے، ماسک فراہم کیے گئے، ان پر جراثیم کش اسپرے کیا جاتا رہا۔ تاہم سماجی دوری اور کرونا وائرس کے دیگر حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد کم کم ہی دکھائی دیا۔

اربعین مارچ میں بغیر ماسک کے شریک بصرہ شہر کے ایک رہائشی عبدالہادی کہتے ہیں کہ وہ عام حالات میں ماسک پہنتے ہیں لیکن اس قدر بڑے ہجوم میں اس کی افادیت ختم ہو چکی ہے۔

کربلا میں عقیدت گزاروں کا ہجوم
کربلا میں عقیدت گزاروں کا ہجوم

"اربعین مارچ کو ظلم کے خلاف جدوجہد کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جو سچائی، امن اور محبت کا پیغام دیتا ہے" یہ کہنا ہے کربلا کے اطراف میں زائرین کے لیے کیمپ لگانے والے حاجی ابو الحسن کا جو مارچ میں شریک تھے۔

وہ کہتے ہیں اس سال زائرین کی تعداد پچھلے برسوں کے مقابلے میں کم ہے۔ اس سے قبل یہ کیمپ زائرین سے بھرے ہوتے تھے جو اس سال نصف خالی ہیں۔

عراقی حکومت کے دعوے کے مطابق گزشتہ سال اربعین کے موقع پر دو کروڑ افراد نے کربلا کا رخ کیا تھا جن میں 30 لاکھ سے زائد غیر ملکی بھی شامل تھے۔

کربلا کے ایک شہری حسن المصطفی کہتے ہیں کہ ان کے شہر نے 40 روز قبل یوم عاشور پر لاکھوں افراد کی میزبانی کی اور اس کے باوجود وہاں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اس لیے اربعین مارچ میں شرکت کرتے ہوئے اُنہیں کوئی خوف نہیں ہے۔

مارچ میں شامل زائرین نجف سے کربلا کا 80 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرتے ہیں۔
مارچ میں شامل زائرین نجف سے کربلا کا 80 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG