رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کشمیر میں استصوابِ رائے کے حق اور مخالفت میں ریلیاں


حق خودارادیت کے لیے مظفرآباد میں نکالی گئی ریلی اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کر رہی ہے۔ 5 جنوری 2020

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تنازع کشمیر کے تصفیے سے متعلق منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کے لیے اتوار کے روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کئی شہریوں ریلیاں منعقد کی گئی۔

پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد بھمبر کوٹلی بھی احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے ہوئے۔

مظفرآباد میں منعقد ایک ریلی میں سینکڑوں افراد نے استصواب رائے کے حق میں علامتی طور پر ووٹ بھی ڈالے۔

مظفرآباد میں ہی منعقدہ ایک دوسری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تنازع کشمیر کے بارے میں قراردیں کشمیریوں کو فائر بندی لکیر عبور کرنے کا حق دیتی ہیں۔

مظفرآباد میں نکالی گئی ریلی کے شرکاء نے نعرے لگاتے ہوئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے دفتر تک مارچ کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 1949 میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں جموں و کشمیر کے رہنے والوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے استصواب کا موقع دینے کی سفارش کی گئی تھی تاکہ وہ آزادانہ طور پر یہ فیصلہ کر سکیں کہ انہیں پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا پھر بھارت کے ساتھ۔

کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی ہر سال 5 جنوری کو یوم قرارداد حق خودارادیت کے طور پر مناتے ہیں۔ جب کہ کشمیر کی خود مختاری کی حامی جماعتیں اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہیں۔

جن کا یہ کہنا ہے کہ 5 جنوری 1949 کی قرار داد کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو صرف انڈیا اور پاکستان کے ساتھ ملنے تک محدود کرتی ہے۔

متنازع جموں و کشمیر کی بھارت اور پاکستان سے علیحدگی کی حامی لبریشن فرنٹ پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان زون کے صدر توقیر گیلانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 5 جنوری کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لیے ان کی جماعت کے زیر انتظام کئی تقاریب منعقد کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کی قرارداد نے کشمیریوں کو انڈیا اور پاکستان کے ساتھ الحاق تک محدود کر دیا جب کہ 13 اگست 1948 کو منظور کی گئی قرارداد میں کشمیریوں کو ان دونوں ملکوں یا خود مختار رہنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔

جب کہ جموں و کشمیر کی آزادی کی حامی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کی جانب سے 5 جنوری کے دن کو یوم مذمت کے طور پر منایا گیا اور اس موقع پر اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔

5 جنوری ہر سال متنازع جموں و کشمیر کے دونوں حصوں اور پاکستان میں یوم قرارداد حق خودارادیت کے طور پر منایا جاتا ہے۔

اتوار کے روز پاکستان کے وزیر برائے امور خارجہ شاہ محمود نے 5 جنوری کے موقع پر ایک پیغام میں کہا کہ کشمیری اس امید کے ساتھ 71 واں یوم قرار حق خود ارادیت منا رہے ہیں کہ اقوام متحدہ متنازع کشمیر کے بارے میں اپنا وعدہ پورا کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG