رسائی کے لنکس

logo-print

موٹروے گینگ ریپ کا دوسرا ملزم تاحال مفرور، حکومت کی حکمتِ عملی پر سوالات


سابق آئی جی پولیس افضل علی شگری کے مطابق وقت سے پہلے پریس کانفرنس کر کے ملزمان کی تفصیلات نہیں بتانی چاہیے تھیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے پنجاب میں موٹر وے گینگ ریپ کیس کے دوسرے ملزم کی گرفتاری پولیس کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔ جگہ جگہ چھاپوں کے باوجود صوبائی پولیس ملزم عابد کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

موٹر وے گینگ ریپ کیس میں شریک ملزم شفقت علی اور پورے گینگ کی گرفتاری کے دعوے کیے گئے ہیں، لیکن پولیس واقعے کے مرکزی ملزم قرار دیے جانے والے عابد نامی شخص کی گرفتاری کے لیے مختلف شہروں میں چھاپے مار رہی ہے لیکن وہ ابھی تک ہاتھ نہیں آ سکا ہے۔

پولیس کا ملزم کی اہلیہ اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لیے جانے کا عمل بھی اب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا۔ تاہم حکام کی جانب سے ملزم کو جلد گرفتار کرنے کے مسلسل دعوے کیے جا رہے ہیں۔

وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں کہ مو ٹروے گینگ ریپ کیس میں متاثرہ خاتون نے دونوں ملزمان عابد اور شفقت کو شناخت کر لیا ہے۔

اُن کے بقول شفقت گرفتار ہو چکا ہے اور عابد کے گرد گھیرا تنگ ہے اس کی دو بیویاں، والد، بھائی اور خاندان کے دیگر افراد گرفتار ہیں۔

سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سندھ افضل علی شگری سمجھتے ہیں کہ اِس واقعے میں پنجاب پولیس کا سب سے بڑا کام یہ تھا کہ اُنہوں نے یہ جیو فینسنگ کروا کر سارے تجزیے کیے جو پولیس کا بنیادی کام ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے افضل شگری نے کہا کہ ملزم کے رشتہ داروں کو حراست میں لینے اور تفتیش کرنے کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔

اُن کے بقول ملزم کے رشتہ داروں سے پوچھا جاتا ہے کہ ملزم کہاں جاتا ہے، کن سے ملتا ہے اور اس کی روشنی میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر رشتے دار جرم میں ملوث ہوں تو اُنہیں بھی شاملِ تفتیش کر لیا جائے اور بے گناہ ہونے کی صورت میں اُنہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

موٹر وے گینگ ریپ کیس میں حکومتِ پنجاب نے ملزموں کی گرفتاری سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملزمان کے نام اور اُن کی تصاویر ذرائع ابلاغ پر جاری کر دیں تھیں۔ جس کے بعد سے مختلف حلقے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس سے مفرور ملزم چوکس ہو گیا ہے۔

جب کہ وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب انعام غنی کی پریس کانفرنس کا دفاع کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلٰی کی پریس کانفرنس ہی ملزم شفقت کی گرفتاری کا سبب بنی۔

اُن کے بقول عثمان بزدار کی پریس کانفرنس کے بہت فائدے ہوئے ہیں جب کہ لوگ بلاوجہ تنقید کر رہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں واردارت سے تین گھںٹے قبل وقارالحسن نامی شخص کا رابطہ ملزم عابد علی سے ہوا تھا، جسے جیو فینسنگ کے ذریعے واقعے کے بعد ٹریس کر لیا تھا۔ وزیرِ اعلٰی پنجاب نے جب وقار کی گرفتاری پر 25 لاکھ روپے کا انعام رکھا تو اُس کے ارد گرد کے لوگوں اور محلے داروں نے ہی اُسے پولیس کے حوالے کرایا۔

ان کے بقول ریپ کیس کی ساری تفتیش پھر وہاں سے آگے چلی جس کے بعد وقارالحسن نے بتایا کہ شفقت کون ہے اور مستری بالا کون ہے۔

'واقعے میں شفقت اور عابد دونوں ہی مرکزی ملزم ہیں'

سابق آئی جی سندھ افضل علی شگری سمجھتے ہیں کہ اِس واقعے میں شفقت اور عابد دونوں ہی مرکزی ملزم تھے جنہوں نے ریپ کیا۔ جن میں سے ایک گرفتار ہو چکا ہے لیکن اب میڈیا نے دوسرے ملزم کو مرکزی ملزم بنا دیا ہے۔

سابق آئی جی سندھ نے کہا کہ وقت سے پہلے پریس کانفرنس کر کے ملزموں کی تفصیلات نہیں بتانی چاہیں تھیں۔ ان کے بقول سوشل میڈیا کی وجہ سے بھی ہر جگہ سے معلومات آنا شروع ہو جاتی ہیں اور میڈیا کا دباؤ بھی بہت ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ اُنہیں بتائیں۔ پاکستان میں یہ دباؤ بہت زیادہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ملزموں کے نام ظاہر کیے گئے۔

افضل شگری کا کہنا تھا کہ کسی بھی کیس میں ملزمان کے نام ذرائع ابلاغ میں نہیں دینے چاہئیں کیوں کہ اس کی وجہ سے ملزم چوکنا ہو جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ موٹر وے گینگ ریپ کے ایک ملزم کو اب تک نہیں پکڑا جا سکا۔

حکام کے مطابق موٹر وے گینگ ریپ کیس پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت دیگر اداروں کی 28 تفتیشی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق وہ شریک ملزم شفقت علی کی گرفتاری کے لیے ننکانہ صاحب، قصور اور شیخوپورہ کے اضلاع میں چھاپے مار چکی ہے۔

تھانہ گجر پورہ میں 2 نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ

خاتون سے زیادتی کا واقعہ نو اور 10 ستمبر کی درمیانی شب پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے گجرپورہ میں رنگ روڈ پر پیش آیا تھا۔ جب ایک خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ کار میں لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی۔

راستے میں پیٹرول ختم ہونے پر خاتون نے گاڑی رنگ روڈ پر رو کنے کے بعد اپنے ایک عزیز، موٹر وے پولیس کی ہیلپ لائن 130 اور پولیس ہیلپ لائن 15 پر فون کیا۔

اِسی اثنا میں دو مسلح ڈاکو وہاں پہنچے اور انہوں نے خاتون پر تشدد کرنے کے بعد اسے زبردستی قریبی جنگل میں لے جا کر بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس نے واقعے کے خلاف تھانہ گجر پورہ میں دو نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ڈاکو ایک لاکھ روپے نقد، طلائی زیورات اور دیگر اشیا بھی لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG