رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربات، امریکہ سے مذاکرات متاثر ہونے کا خدشہ


حالیہ میزائل تجربات کے بعد امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری تجربات کی روک تھام کے لیے دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات شکوک و شبہات کی زد میں آگئے ہیں۔ (فائل فوٹو)

شمالی کوریا نے مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے دو میزائلوں کا تجربہ کیا ہے جس کے نتیجے میں شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جوہری تجربات کے خاتمے پر ہونے والے مذاکرات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا نے ساحلی شہر وینسن میں دو میزائل تجربات کیے ہیں جن میں سے ایک نے 430 کلو میٹر اور دوسرا میزائل 690 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے سمندر برد ہوا۔

جنوبی کوریا کے حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ شمالی کوریا کے فائر کردہ دونوں میزائلوں نے سطح زمین سے 50 کلو میٹر کی بلندی پر پرواز کی۔

وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکومت کے ایک ذمہ دار شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے ایک میزائل فائر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا نے ایسے موقع پر میزائل تجربات کیے ہیں کہ جب گزشتہ ماہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے دورے کے موقع پر غیر فوجی علاقے میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے بھی ملاقات کی تھی۔

حالیہ میزائل تجربات کے بعد امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری تجربات کی روک تھام کے لیے دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات شکوک و شبہات کی زد میں آگئے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے زور دیا ہے کہ شمالی کوریا کے اس قسم کے اقدامات کشیدگی کے خاتمے کے لیے کار آمد نہیں ہیں اور اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

جنوبی کوریا کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی کوریا کے میزائل تجربات کے بعد جنوبی کوریا کے جوہری سفیر لی ڈو ہون نے امریکی ہم منصب اسٹیفن بیگن اور جاپان کے ہم منصب کین جی کناسوگی کو ٹیلی فون کیا اور اُنہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔

شمالی کوریا نے آخری مرتبہ مئی میں شارٹ رینج میزائل تجربات سمیت راکٹ تجربات کیے تھے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کا دوسرا دور جلد کرانے پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن پیانگ یانگ نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان مستقبل قریب میں ہونے والی فوجی مشقوں کے انعقاد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG