رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سفارت کار پر جاسوسی کا الزام، روس کا اظہارِ افسوس


روسی حکومت نے ماسکو میں تعینات ایک امریکی سفارت کار کی جاسوسی کے الزام میں گرفتاری اور بعد ازاں ملک سے بے دخلی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

روسی حکومت نے ماسکو میں تعینات ایک امریکی سفارت کار کی جاسوسی کے الزام میں گرفتاری اور بعد ازاں ملک سے بے دخلی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ایک ترجمان نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ واقعے سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو ٹھیس پہنچے گی۔

روسی حکام نے پیر کی رات ریان فوگل نامی ایک امریکی سفارت کار کو ایک روسی انٹیلی جنس افسر کو 'سی آئی اے' کے لیے بھرتی کرنے کی کوشش کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔

روس کی 'فیڈرل سیکیورٹی سروس' نے امریکی سفارت کار کو منگل کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب، روسی حکام کے بقول، وہ بھیس بدل کر مخصوص تیکنیکی آلات، بھاری رقم اور تحریری ہدایات کے ساتھ اپنے ہدف روسی اہلکار سے ملنے جارہا تھا۔

ایجنسی کے مطابق ملزم سفارتی اہلکار ماسکو کے امریکی سفارت خانے کے سیاسی شعبے میں تھرڈ سیکریٹری کے طور پر متعین تھا اور امریکی خفیہ ایجنسی 'سی آئی اے' کے لیے بھی کام کر رہا تھا۔

روس کے سرکاری ٹیلی ویژن نے امریکی سفارتی اہلکار کی گرفتاری اور ان کے قبضے سے برآمد ہونے والی اشیا کی ویڈیو بھی نشر کی تھی۔

بعد ازاں روسی وزارتِ خارجہ نے امریکی سفارت کار کو "ناپسندیدہ شخصیت" قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

بدھ کو روس کے وزیرِ خارجہ سرجئی لاوروف نے ماسکو میں تعینات امریکی سفیر مائیکل مک فال کو اپنے دفتر میں طلب کرکے واقعے پر احتجاج کیا اور وضاحت مانگی۔

ملاقات کے بعد امریکی سفیر نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو سے گریز کیا۔

بعد ازاں سوئیڈن میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ سرجئی لاوروف نے اسکینڈل پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور سیکریٹری کیری نے اپنی ملاقات میں اس موضوع پر بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر مزید کسی تبصرے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ ان کے بقول اس معاملے پر پہلے ہی سب کچھ لوگوں کے علم میں آچکا ہے۔
XS
SM
MD
LG