رسائی کے لنکس

ہزارہ ڈویژن کے روایتی پکوان اور کلچے


کلچوں یا پکوان کی تیاری کے موقع پر سب سے یادگار لمحہ اُنہیں 'ٹیسٹ' کرنے کا ہوتا ہے اور اچھے خاصے پکوان 'ٹیسٹ' کرنے کے مرحلے میں ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

زمانۂ طالب علمی میں ہم موسمِ گرما کی دو ماہ کی تعطیلات گزارنے حیدرآباد سے اپنے ننھیال مانسہرہ جایا کرتے تھے۔ یہ دو ماہ کس تیزی سے گزرتے، یہ ایک الگ داستان ہے۔ لیکن ہم یہاں ان کھانوں اور اس سوغات کا ذکر کریں گے جو وہاں ملتیں اور جن کی لذت اور ذائقہ ہمیں ننھیال سے واپسی کے مہینوں بعد تک یاد رہتے۔

مکئی کی روٹی، تازہ دودھ، مکھن، لسی، ساگ اور تازہ سبزیاں، یہ سب اشیا تو روزانہ کے دسترخوان کا لازمی حصہ تھیں۔ لیکن ایک سوغات جو مانسہرہ کی پہچان ہے، وہ کلچہ اور پکوان ہے۔ جو گاؤں سے واپسی پر ہر بار ہمیں ساتھ دیے جاتے اور آج بھی دوسرے شہروں سے آئے ہوئے مہمانوں کو گھر واپسی پر ساتھ لے جانے کے لیے دیے جاتے ہیں۔

بیٹی اپنے سسرال جائے تو اس کی سسرال واپسی پر یہ سوغات ساتھ دینے کی روایت آج بھی برقرار ہے۔

مہمانوں کی گھر واپسی سے قبل رات بھر یہ پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ جس کے لیے محلے کی خواتین اور قریبی رشتے دار جمع ہو کر ہاتھ بٹاتے ہیں۔

پکوان اور کلچوں کی تیاری کے لیے مسالا الگ الگ تیار کیا جاتا ہے۔ کلچے تندور میں لگتے ہیں اور پکوان کھولتے تیل کی کڑاہی میں تیار کیے جاتے ہیں۔

دیہات میں بڑے بڑے گھروں کے ساتھ اُن کے باورچی خانے بھی بڑے بڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ان پکوانوں کی تیاری میں شریک افراد کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی تیاری عموماً صحن میں کی جاتی ہے اور اس دوران خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ مہمانوں کے ساتھ گزارے لمحات کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔

پکوان اور کلچوں کی تیاری کے لیے مسالا الگ الگ تیار کیا جاتا ہے۔ کلچے تندور میں لگتے ہیں اور پکوان کھولتے تیل کی کڑاہی میں تیار کیے جاتے ہیں۔
پکوان اور کلچوں کی تیاری کے لیے مسالا الگ الگ تیار کیا جاتا ہے۔ کلچے تندور میں لگتے ہیں اور پکوان کھولتے تیل کی کڑاہی میں تیار کیے جاتے ہیں۔

پکوان کی تیاری کے لیے آٹا، سوجی، چینی، بناسپتی گھی، دیسی گھی، کھانے کا سوڈا، سونف، دیسی انڈے اور پسے ہوئے ناریل کو مکس کیا جاتا ہے جس کے بعد اس میں پانی ملا کر آٹے کی طرح گوندھا جاتا ہے۔

گوندھنے کا عمل مکمل ہو جائے تو اسے تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گندم صاف کرنے کے لیے استعمال ہونے والے چھاجوں کے ذریعے اسے شکل دی جاتی ہے۔

جب خواتین پکوانوں کو شکل دینے سے فارغ ہو جاتی ہیں تو دوسرے مرحلے میں اسے گرم تیل میں سرخ کرنے کی باری آتی ہے۔ جس کے لیے چولہا صحن میں رکھ کر لکڑیوں سے آگ لگا کر اس پر تیل کی کڑاہی رکھنے کے بعد اسے خوب گرم کیا جاتا ہے۔

پکوانوں کی تیاری میں اکثر کسی ماہر کو ہی آگے آگے رکھا جاتا ہے۔

ہماری چھوٹی خالہ گاؤں میں 'پکوان ایکسپرٹ' مشہور ہیں اور رشتے دار اکثر اُنہیں پکوانوں کی تیاری کے لیے بلا لیتے ہیں۔

پکوان اکثر چائے کے ساتھ تناول کیے جاتے ہیں اور صبح ناشتے میں تو پکوان ناشتے کا مزہ دوبالا کر دیتا ہے۔
پکوان اکثر چائے کے ساتھ تناول کیے جاتے ہیں اور صبح ناشتے میں تو پکوان ناشتے کا مزہ دوبالا کر دیتا ہے۔

ہم جب جب بھی گاؤں سے واپس لوٹے تو اس سے قبل ہمارے لیے پکوانوں کی تیاری ہماری چھوٹی خالہ نے ہی کی۔

کڑاہی میں پکوانوں کی تیاری کے موقع پر خاص توجہ دی جاتی ہے کیوں کہ ذرا سی لاپرواہی سے آپ کی سوغات ٹوٹنے یا جل جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔

اس لیے جب کڑاہی میں پکوانوں کی شکل ہلکی سرخ ہونے لگے تو اسے فوری طور پر نکالنے کے بعد انہیں پنکھے کی ہوا میں خشک ہونے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ ٹوٹنے سے محفوظ رہیں۔

کلچوں کی تیاری

کلچوں کی تیاری کے لیے آٹا، چینی، گھی، انڈے، سوڈا، سوجی اور خشخاش کو ملا کر اس میں پانی ڈالا جاتا ہے۔ اچھی طرح اس مکسچر کو گوندھنے کے بعد اسے کسی پلاسٹک کے بڑے دستر خوان پر یا تھال میں پھیلا دیا جاتا ہے۔

پانی پینے والے گلاس کی مدد سے کلچے کے مکسچر سے گول گول ٹکیاں بنائی جاتی ہیں اور پھر ان ٹکیوں کو تقریباً ایک گھنٹے کے لیے پنکھے کی ہوا میں خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پکوانوں کی تیاری میں اکثر کسی ماہر کو ہی آگے آگے رکھا جاتا ہے۔
پکوانوں کی تیاری میں اکثر کسی ماہر کو ہی آگے آگے رکھا جاتا ہے۔

جب کلچے کی ٹکیاں سوکھ جائیں تو پھینٹے ہوئے انڈوں میں خشخاش مکس کر کے اسے ٹکیوں پر لگایا جاتا ہے۔

آخری مرحلے میں ان ٹکیوں کو پکنے کے لیے تندور میں لگایا جاتا ہے اور جب ٹکیاں سرخ ہونے لگے تو انہیں نکال کر جمع کر لیا جاتا ہے۔

کلچوں یا پکوان کی تیاری کے موقع پر سب سے یادگار لمحہ اُنہیں 'ٹیسٹ' کرنے کا ہوتا ہے اور اچھے خاصے پکوان 'ٹیسٹ' کرنے کے مرحلے میں ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

ہزارہ ڈویژن کے بیشتر دیہات میں آج بھی گھر لوٹنے والے مہمانوں کے ساتھ کلچے اور پکوان بھیجنے کی روایت برقرار ہے اور آج بھی رشتے دار، مہمانوں کی واپسی سے قبل جمع ہو کر خوش گپیاں لگاتے ہیں۔ لیکن فرق صرف اتنا آیا ہے کہ اب مہمانوں کو بازار میں دستیاب پکوان منگوا کر دیے جاتے ہیں لیکن کلچے اب بھی گھروں میں ہی تیار ہوتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG