رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی نمائندہ کی سرتاج عزیز اور افغان سفیر سے ملاقاتیں


قائم مقام امریکی نمائندہ خصوصی لارل ملر نے پیر کو پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی، جس میں اطلاعات کے مطابق افغانستان میں امن و مصالحت سے متعلق اُمور پر بھی بات چیت کی گئی۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کی قائم مقام نمائندہ خصوصی لارل ملر نے اسلام آباد میں پاکستانی عہدیداروں اور افغان سفیر سے ملاقاتیں کیں۔

قائم مقام امریکی نمائندہ خصوصی لارل ملر نے پیر کو پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی، جس میں اطلاعات کے مطابق افغانستان میں امن و مصالحت سے متعلق اُمور پر بھی بات چیت کی گئی۔

پاکستان میں تعینات افغان سفیر حضرت عمر زخیلوال نے لارل ملر سے ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر کہا کہ اس ملاقات میں مختلف اُمور پر تبادلہ خیال ہوا۔

نا تو پاکستان کی وزارت خارجہ اور نا ہی افغان سفیر نے اس ملاقات کی مزید تفصیلات جاری کیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب دو روز قبل ہی بھارت کے شہر امرتسر میں افغانستان سے متعلق ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں سرتاج عزیز نے شرکت کی اور اس موقع پر افغان صدر کی طرف سے پاکستان کو ہدف تنقید بنایا گیا۔

افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ایک سینیئر راہنما کے بیان کے حوالے سے کہا کہ اگر طالبان کو ’’پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں نہ ملتیں تو وہ ایک مہینہ بھی نہیں چل سکتے تھے۔‘‘

تاہم پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ الزامات تراشی کسی مسئلہ کاحل نہیں۔

افغان اُمور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تلخی کے تناظر میں امریکہ کی قائم مقام نمائندہ خصوصی کا دورہ اہمیت کا حامل ہے۔

’’چاہے کوئی پیش رفت نا ہو، لیکن دیکھ رہے ہیں ہم کہ ایک نئی کوشش شروع ہو گئی ہے افغانستان کے سیاسی مسئلے کا حل نکالنے کے لیے۔‘‘

پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

اُدھر پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے منگل کو ایک اور رابطہ بھی ہوا، پاکستانی وزارت خزانہ کے مطابق امریکہ کی معاون وزیر برائے اقتصادی ترقی و توانائی کیتھرین نویلی نے پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

وزارت خزانہ کے ایک بیان کے مطابق کیتھرین نویلی نے اس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ امریکہ میں نئی انتظامیہ کی طرف سے نظام حکومت سنبھالنے کے بعد بھی معاشی شعبے میں دوطرفہ تعاون جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی واشنگٹن میں ہیں جہاں اُنھوں نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ بات چیت کے لیے یہاں آئے ہیں اور اُن کے بقول پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ روابط کو فروغ دینے کا منتظر ہے۔

XS
SM
MD
LG