رسائی کے لنکس

logo-print

کیا لاہور ہائی کورٹ مشرف کو ریلیف دے سکتی ہے؟


فائل فوٹو

سابق صدر اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی جانب سے سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو چیلنج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کا فل بینچ کرے گا۔

سابق صدر کی درخواست پر سماعت نو جنوری کو ہو گی۔ سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر کریں گے۔ پاکستان کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا لاہور ہائی کورٹ سابق صدر کو ریلیف دے سکتی ہے یا خصوصی عدالت کے قیام کو غیر آئینی قرار دیا جا سکتا ہے؟

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سابق سیکریٹری لاہور ہائی کورٹ بار اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومتیں عام طور پر ملزمان کے خلاف کیس دائر کرتی ہیں۔ ان کے بقول موجودہ حکومت ملزم کو بچانے کے لیے کوشاں نظر آتی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اُنہیں ایسا نہیں لگتا کہ لاہور ہائی کورٹ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو کوئی ریلیف دے سکے گی۔ پرویز مشرف صرف سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔

خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق بات کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خصوصی عدالت کام کر رہی تھی اُس کی قانونی حیثیت تھی اور رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کی حیثیت ٹرائل کورٹ کی تھی اور اُس کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ آف پاکستان سن سکتی ہے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ
جسٹس وقار احمد سیٹھ

اعظم نذیر تارڑ سمجھتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف اور اُس کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں سن سکتی۔ ان کے بقول "خصوصی عدالت میں تینوں ہائی کورٹ کے سینئر ججز اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شامل تھے۔

سابق وفاقی وزیر اور سینئر قانون دان ڈاکٹر خالد رانجھا کسی حد تک اعظم نذیر تارر کی اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر خالد رانجھا سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف اپیل میں جو نکات اُٹھائے ہیں۔ ان میں کافی وزن ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ جب یہ جرم ہوا تو ملزم سابق فوجی افسر تھا۔ اور اُس وقت ملک میں عدالتیں کام کر رہی تھیں تو خصوصی عدالت کی کیا ضرورت تھی۔

ڈاکٹر خالد رانجھا سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف چونکہ ایک سابق فوجی افسر تھے لہذا اُن کے خلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ سیاسی معلوم ہوتا ہے۔ جس میں ملزم کو سنا ہی نہیں گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر سیاسی گفتگو ہو رہی ہے۔ اُس کے قانونی نکات پر آواز نہیں اُٹھائی جا رہی۔

خالد رانجھا کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق ہر ملزم کو سنا جاتا ہے اور اُسے اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے لیکن اِس پوری کارروائی میں پرویز مشرف کو سنا ہی نہیں گیا۔

خالد رانجھا کے بقول لاہور ہائی کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ ملزم کو خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لے لینی چاہیے۔ کیونکہ اِس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی۔
خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی۔

خالد رانجھا کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ چونکہ بڑی عدالت ہے۔ لہذٰا وہیں اس اپیل کو سنا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول لاہور ہائی کورٹ خود پرویز مشرف کے وکیل کو کہہ چکی ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست واپس کیوں نہیں لے لیتے۔

لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کو کالعدم قرار دینے کے لیے منگل کی شام فل بنچ تشکیل دے دیا ہے۔ پرویز مشرف کی درخواست پر فل بینچ بنانے کی سفارش جسٹس مظاہر نقوی نے کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ میں پرویز مشرف کی وکالت سابق گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم اور اُن کے معاون وکیل اظہر صدیق کر رہے ہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے موکل نے یہ درخواست خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے پہلے دائر کی تھی۔

اظہر صدیق کے مطابق پیپلزپارٹی کے دور میں سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سنگین غداری کا بنتا ہی نہیں۔ اس کیس پر 2010 سے 2013 تک مکمل خاموشی تھی۔

اظہر صدیق سمجھتے ہیں کہ خصوصی عدالت کا بنایا جانا بھی سیاسی تھا اور اُس کا فیصلہ بھی سیاسی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ایک عدالت کے قیام میں آئینی اور قانونی پہلوؤں کو نطر انداز کیا گیا ہے تو اس کے فیصلے کو کیسے قانونی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سابق صدر پرویز مشرف کے سنگین غداری کیس کے لئے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل پر اہم نکات اٹھائے گئے ہیں۔ جس پر بحث کے لیے انہوں نے چیف جسٹس سے فل بنچ بنانے کی سفارش کی تھی۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ پرویز مشرف کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان ہی موجود نہیں۔

پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ خصوصی کمیشن پرویز مشرف کے پاس بھجوایا جائے۔ جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کا بیان ہی نہ ہو اور فیصلہ سنا دیا جائے۔

خصوصی عدالت نے گزشتہ ہفتے دو ایک کے اکثریتی فیصلے سے پرویز مشرف کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تنقید کرتے ہوئے خصوصی عدالت کے جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کی ذہنی حالت پر سوال اٹھایا تھا۔ اور اُن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG