رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کی صورت حال میں لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں کیوں؟


فائل فوٹو

پاکستان اور بھارت میں اس وقت کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے لیکن اس کے باوجود لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔

پاکستان کے مطابق پیر کے روز بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری سے 2 سالہ بچہ ہلاک جب کہ ایک خاتون سمیت 4 شہری زخمی ہو گئے۔

اس بارے میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے ٹوئٹ میں الزام عائد کیا کہ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ بھارتی فوج نے چیری کوٹ، رکھ، چکری، بروہ اور ڈھنڈنیال سیکٹروں میں بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جس کے نتیجے ڈھنڈنیال سیکٹر میں 2 سالہ بچہ ہلاک ہو گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بروہ، چیری کوٹ اور دیگر علاقوں میں بھارتی فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری کے باعث خاتون سمیت 4 شہری بھی زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ہفتہ اور اتوار کے روز بھی پاکستانی فوج نے بھارتی فوج پر فائرنگ اور گولہ باری کے الزامات عائد کیے تھے جن میں کئی افراد زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان کے مطابق رواں سال 2020 میں اب تک بھارت کی طرف سے 708 بار سیزفائر کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجہ میں 2 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہو چکے ہیں۔

کنٹرول لائن پر حالات کیا ہیں؟؟

کنٹرول لائن پر حالات کے بارے میں تتہ پانی سیکٹر کے قریب مقیم غلام مصطفیٰ نے وائس آف امریکہ سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ دنوں میں اس گولہ باری میں اضافہ ہوا ہے اور بھارت کی طرف سے لگاتار فائرنگ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دنوں میں عام طور پر دریا میں پانی زیادہ ہوتا ہے اور بھارتی فوج سمجھتی ہے کہ اس تیز پانی کی آڑ میں کہیں عسکریت پسند پاکستان کی طرف سے داخل نہ ہوں، اس لیے ان دنوں میں فائرنگ زیادہ کر دی جاتی ہے، لیکن کرونا وبا کی وجہ سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے اور عام لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے باہر جانے کی اجازت نہیں۔ ایسے میں یہ گولہ باری عام لوگوں کی تکلیفوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ بعض اوقات گولے بازار کے قریب گرنے کی وجہ سے لوگ عام اشیائے خورد و نوش کے لیے بھی باہر نہیں جا سکتے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ یہ صورت حال خاصی خراب ہے۔ اس وقت جب دونوں ممالک وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں تو ایسے میں بندوق اور توپوں کی جنگ دونوں کے لیے درست نہیں ہے۔

جنرل طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور کشمیر کے معاملے پر دنیا بھر کا فوکس ہٹانا چاہتا ہے۔ مودی حکومت نے کشمیر کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، اس پر عالمی سطح پر کوئی نہیں دیکھ رہا۔ دنیا کے بڑے ممالک کرونا وائرس کی وجہ سے خود اپنے حالات میں مصروف ہیں۔ ایسے میں بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور سرحدی علاقوں میں گولہ باری پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستانی فوج پہلے ہی لاک ڈاؤن میں مدد کے لیے ملک کے اندر موجود ہے۔ بھارت جو کچھ کر رہا ہے، اس کے ردعمل میں پاکستان کو بھی جواب دینا پڑتا ہے اور یہ جھڑپیں اس مشکل وقت میں دونوں ممالک کے لیے بہتر نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG