رسائی کے لنکس

مقامی آبادی کی ہڑتال سے بٹگرام سرنگ کی تعمیر میں رکاوٹ: رپورٹ


CPEC

تنازع کو سلجھانے کے لیے مقامی انتظامیہ اور قومی شاہراہوں کے ادارے نے متاثرین کے نمائندوں سے مذاکرات کیے، جس کے بعد چینی مزدور اپنے کام پر لوٹ آئے

بٹگرام کے علاقے میں معاوضہ نہ ملنے کی شکایت پر، بتایا جاتا ہے کہ منگل کے روز علاقے میں پاک چین راہداری منصوبے کے تحت تعمیر کی جانے والی سرنگ پر چینی مزدوروں کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے اُن سے لی جانے والی زمینوں کا معاوضہ نہیں دیا۔

تنازع کو سلجھانے کے لیے مقامی انتظامیہ اور قومی شاہراہوں کے ادارے نے متاثرین کے نمائندوں سے مذاکرات کیے، جس کے بعد چینی مزدور اپنے کام پر لوٹ آئے۔

یہ بات جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں شریک تجزیہ کاروں نے نفیسہ ہودبھائی کو بتائی۔

واضح رہے کہ 50 ارب ڈالر سے تعمیر ہونے والے ’سی پیک‘ منصوبے میں شاہراہوں اور سرنگوں کے جال بچھ جانے کے بعد لوگوں کی زمینیں خالی کی جائیں گی، جس سے خدشہ ہے کہ زمین کے معاوضے کے مطالبے زور پکڑیں گے۔

خیبر پختونخواہ میں سپریم کورٹ کے وکیل، لطیف آفریدی کہتے ہیں کہ بٹگرام میں زمین کے معاملے پر تقریباً چھ سات ماہ قبل لوگوں کو دھمکایا گیا تھا کہ وہ چپ رہیں۔ لیکن، بقول اُن کے، لوگ تیز ہوگئے ہیں، جب کہ زمین کے حصول سے متعلق ماضی کے برطانوی راج کا قانون بھی موجود ہے۔

کرنل (ر) مقبول آفریدی، ’سی پیک اسٹیئرنگ کمیٹی‘ کے رُکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاک چین راہداری میں 30 سے 40 منصوبے ہیں جو مختلف شہروں میں اور مختلف نوعیت کے ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بات کا علم تھا کہ راہداری منصوبے سے متعلق اس طرح کے معاملات اٹھیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ حاصل کردہ زمین کے بدلے مناسب معاوضہ دے، تاکہ پاک چین راہداری منصوبے کی حمایت میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔

تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG