رسائی کے لنکس

logo-print

مالی میں کار بم دھماکا، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ


مالی کے شمالی علاقے میں ایک فوجی کیمپ پر کار بم حملے کے بعد کا منظر۔ 18 جنوری 2017

مالی کا شمالی علاقہ فوجی کارروائیوں کے باوجود بدستور بدامنی کا شکار ہے۔

مالی کے شمالی علاقے میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 60 ہو گئی ہے اور ایک سو کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔

عہدے داروں نے بتایا کہ یہ دھماکہ ایک کیمپ کے قریب ہوا جہاں سابق باغی اور حکومت نواز عسکریت پسند ٹہرے ہوئے تھے۔

القاعدہ سے جڑی ایک تنظیم الاموربائیتن نے مالی میں خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

عینی شاہد وں کا کہنا ہے کہ کار بم دھماکہ گاؤ نامی شہر کے ایک فوجی مرکز میں صبح نو بجے ہوا جب وہاں سینکڑوں سپاہی اکھٹے ہو رہے تھے۔

یہ کیمپ فرانسیسی فوج کی قیادت میں علاقے سے اسلام پسند عسکری گروہوں کے نکالنے کے لیے شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد حکومت اور وفادار ملیشیاؤں کے درمیان 2015 میں ایک معاہدہ طے پانے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

مالی کا شمالی علاقہ فوجی کارروائیوں کے باوجود بدستور بدامنی کا شکار ہے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی اس ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام پسند عسکری گرہوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن کاروں اور مقامی آبادیوں پر حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کو ملک کے شمالی اور وسطی حصوں میں شہریوں کے تحفظ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسلامی عسکریت پسند پچھلے سال اپنے کنٹرول کے علاقوں میں اپنے انداز کا شرعی نظام نافذ کرنے کے بعد درجنوں افراد کو ہلاک کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG