رسائی کے لنکس

logo-print

پالتو کتے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان دے دی


کتے کی وفاداری کی کہانیاں تو آپ نے بہت پڑھی اور سنی ہوں گی جو اپنے مالک کے لیے جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ لیکن، ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کسی شخص نے اپنے پالتو کتے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان دی ہو۔ پبلو فیسک ایک ایسا ہی شخص تھا۔

فرانس اور میکسیکو کی دوہری شہرت رکھنے والے پبلو فیسک نے پچھلے مہینے اپنے پالتو کتے ساشا کی جان بچانے کے لیے کھولتے ہوئے پانی کے چشمے میں چھلانگ لگا دی۔

پبلو کو کتوں سے بہت پیار تھا۔ اسے ستمبر 2017 میں میکیسکو سٹی میں آنے والے ایک تباہ کن زلرلے کے بعد ایک عمارت کے ملبے کے پاس سے سیاہ اور سفید بالوں والا ایک کتا ملا تھا، جسے اس نے گود لے لیا۔ اس زلرلے میں کئی سو لوگ موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

پبلو کی بہن صوفیہ فیسک نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ایک پالتو جانور کے لیے اپنی جان دینا ایک ناقابل یقین اقدام ہے۔

صوفیہ پیرس میں رہتی ہیں، انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کا بھائی اپنے پالتو کتوں کو اپنے بچوں کی طرح چاہتا تھا اور اس نے اپنے کتے کی جان بچانے کے لیے وہی کچھ کیا جو وہ میرے لیے یا کسی انسان کے لیے کرتا۔

فیسک کا خاندان پیرس کے مضافات میں اتوار کے روز اس کی یاد میں ایک دعائیہ تقریب منعقد کر رہا ہے جس میں کرونا وبا کے پیش نظر سماجی فاصلہ قائم رکھا جائے گا۔

فیسک کا ساتھی جوناتھن راموس اس کی راکھ دعائیہ تقریب کے لیے پیرس لایا ہے۔ فیسک گزشتہ ایک عشرے سے میکسیکو میں رہ رہا تھا۔ اس کی عمر 32 سال تھی اور وہ تھیٹر اور آرکیٹکچر کے لیے کام کرتا تھا۔

فیسک اور راموس 13 جون کو اپنے تین پالتو کتوں کے ساتھ میکسیکو سٹی کے مغربی صوبے مچواکان کے پہاڑی علاقے میں کوہ پیمائی کر رہے تھے۔ اس دوران اس کا پالتو کتا ساشا گہری کھائی میں واقع کھولتے ہوئے پانی کے ایک چشمے میں گر گیا۔ اس نے ساشا کو بچانے کے لیے چھلانگ لگا دی۔

راموس نے بتایا کہ ساشا تو موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جب کہ فیسک شدید زخمی ہوا۔ وہ ایمبولینس ڈھونڈنے کے لیے اسے اپنی کمر پر اٹھا کر 40 منٹ تک چلتا رہا۔

صوفیہ کا کہنا تھا کہ چشمے سے کھولتا ہوا پانی نکل رہا تھا۔ فیسک کے جسم کا 70 فی صد حصہ جھلس گیا تھا۔ اسے میکسیکو سٹی کے ایک اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ چونکہ ملک میں کرونا وائرس پھیلا ہوا تھا اس لیے اسپتال والوں نے کسی کو بھی عمارت میں داخل ہو کر فیسک سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔

فیسک کے زخم خراب ہو گئے تھے جس پر ڈاکٹروں نے اس کی سرجری کا فیصلہ کیا جس کے لیے خون کی ضرورت تھی۔ فیسک کی فیملی اور دوستوں نے خون اکھٹا کرنے کی مہم چلائی۔ فیسک کی پہلی سرجری 5 جولائی کو ہوئی۔ اس سے اگلے روز وہ چل بسا۔

صوفیہ نے بتایا کہ اسپتال میں صرف ایک بار اس کی اپنے بھائی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ وہ بہت افسردہ تھا اور کہہ رہا تھا کہ کوشش کے باوجود وہ اپنے پالتو کتے کی جان نہیں بچا سکا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG